برٹش پاکستانی نے منی لانڈرنگ کے الزام سے بریت کے بعد اسکاٹ لینڈ یارڈ پر مقدمہ کردیا

لندن: سابق منی ایکسچینج کے مالک برٹش پاکستانی احسن جاوید نے34ملین پونڈ کی منی لانڈرنگ کے الزام سے بریت کے بعد اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے قبضے میں لئے گئے 4 لیپ ٹاپ میں گڑبڑ کرنے کے الزام میں مقدمہ دائر کردیا ہے۔ پولیس نے یہ لیب ٹاپ کم وبیش 4 سال بعد واپس کئے تھے۔
احسن جاوید نے گرفتاری کے وقت پولیس کی جانب سے قبضے میں لی گئی6 لاکھ پونڈ کی رقم کی واپسی کیلئے بھی اسکاٹ لینڈ یارڈ پر مقدمہ دائر کیا ہے۔ کراؤن پراسیکیوشن سروس احسن جاوید کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے میں الزام ثابت کرنے میں ناکام ہوگئی، جس کی وجہ سے عدالت نے انھیں بری کردیا۔
ان پر43 بینک اکاؤنٹس میں رقم چھپانے اور اس کے بعد برطانیہ سے پاکستان منتقل کرنے کا الزام تھا، انھیں، ان کی اہلیہ آمنہ گلزار اور2 دیگر افراد کو نومبر2017 میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن مئی2018 میں2012 سے2018 کے دوران جعلی کمپنیوں اور اکاؤنٹس کھول کر34 ملین پونڈ منی لانڈرنگ کے الزام میں چارج کیا گیا تھا۔
3
احسن جاوید نے اسکاٹ لینڈ یارڈ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ان کو ان کی رقم سے محروم کرنے کیلئے ان کے لیپ ٹاپ میں گڑبڑ کی اور پاس ورڈ اور رقم کی ملکیت کے حوالے سے اہم شواہد ضائع کردیئے۔ اکتوبر2021 میں عدالت سے بری کئے جانے کے باوجود پولیس نے ان کی ضبط کردہ رقم واپس نہیں کی تھی۔
جج نے پراسیکیوشن کی ناکامی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب احسن جاوید اور ان کی فیملی پراسیکیوشن کی ناکامی اور کرمنل مقدمے سے بریت کا جشن منائیں گے لیکن جاوید کا المیہ یہاں بھی ختم نہیں ہوا کیونکہ پولیس نے اعلان کیا کہ ان کی ضبط کردہ رقم منجمد رہے گی اور پولیس پروسیڈ آف کرائم ایکٹ کے تحت یہ کارروائی کرے گی، اس ایکٹ کے ذریعے پولیس کو ضبط شدہ رقم کوئی مزید چارج لگائے بغیر ضبط کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
احسن جاوید نے بتایا کہ وہ اور ان کی فیملی کئی سال انتہائی خوفناک صورت حال سے دوچار رہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے ساتھ یہ سلوک میرے پاکستانی ہونے کی بنیاد پر کیا گیا، اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو برطانوی پولیس اور پراسیکیوشن اس کے ساتھ مختلف سلوک کرتی۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے جو رقم پاکستان بھیجی، وہ ترسیلات تھیں، اس میں کسی طرح کی منی لانڈرنگ اور مجرمانہ فعل کا کوئی دخل نہیں تھا، ہم نے برطانیہ میں مقیم غریب اور محنت کش طبقے کی رقم پاکستان بھیجی تھی۔ ہماری کمپنیاں فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی میں رجسٹرڈ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم شروع دن سے ہی کہہ رہے تھے، ہم منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں ہیں لیکن کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں تھا لیکن آخرکار4 سال بعد پراسیکیوشن الزامات ثابت کرنے میں ناکام ہوگئی اور ہم بے قصور ثابت ہوگئے۔
پراسیکیوشن کا کہنا تھا کہ انھوں نے تمام ثبوتوں کے ساتھ تیاری کی ہوئی ہے اور ہم پر اعتراف جرم کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے رہے لیکن چونکہ ہم بے قصور تھے، اس لئے ہم نے انکار کردیا، مقدمہ کی سماعت پراسیکیوشن کی درخواست پر شروع ہوئی تھی اور پھر پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ ہم تیار نہیں ہیں۔ عدالت میں یہ ثابت ہوگیا پاکستان رقم بینکوں کے ذریعے بھیجی گئی اور ہر چیز کے ڈاکومنٹ موجود تھے اور اسے ڈکلیئر کیا گیا تھا۔
احسن جاوید کا کہنا تھا کہ2 ماہ کی سماعت کے دوران ہی یہ ثابت ہوگیا تھا کہ CPS کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اور وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے، وہ مقدمے کو کسی طرح طول دینا چاہتے تھے تاکہ کچھ شواہد جمع کرسکیں لیکن جج کو محسوس ہوچکا تھا کہ CPS کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اور CPS کو مزید وقت نہ دینے کا فیصلہ کیا اور مقدمہ ختم ہوگیا۔ پولیس نے مقدمہ ختم ہونے کے کم وبیش4 سال بعد لیپ ٹاپ واپس کئے لیکن اس کے پاس ورڈز تبدیل کردیئے گئے تھے اور انھوں نے تمام مشینوں میں بھی گڑبڑ کی تھی، جس کی وجہ سے لیپ ٹاپ اب نہیں چل رہے۔ پولیس نے وہ شواہد روک لئے، جس سے میرے مقدمے کو تقویت ملتی تھی اور مجھے لیپ ٹاپ تک رسائی نہیں دی گئی، اس طرح متعلقہ شواہد پیش کرنے میں رکاوٹ ڈالی گئی۔
انھوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ پولیس نے پاس ورڈز تبدیل کئے ہیں اور لیپ ٹاپس میں گڑبڑ کی ہے، جس کی وجہ سے اب ہم ان لیپ ٹاپس سے شواہد نہیں لے سکتے، ہم نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ ہمارے لیپ ٹاپس کی فارنسک معائنے کا حکم دے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ پولیس نے مشینوں کے ساتھ کیا کیا ہے۔ ہم انصاف کیلئے لڑ رہے ہیں اور عدالت سے استدعا کر رہے ہیں کہ وہ لیپ ٹاپس اور دیگر شواہد کے ساتھ کھلواڑ کرنے پر پولیس کو جوابدہ قرار دے۔
انھوں نے کہا کہ میں پولیس کا ستایا ہوا ہوں، میں نے اور میری فیملی نے بہت مصائب برداشت کئے ہیں۔ جب کیس شروع ہوا تو میرے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھا اور مجھے فلائٹ رسک قرار دے دیا گیا، میں بلا قصور 27 ماہ تک پولیس کی تحویل میں رہا، پولیس نے امکان بھر معاملات کو بگاڑنے اور پیچیدہ بنانے کی کوشش کی لیکن آخر کار سچ غالب آیا اور ہم جیت گئے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم سول پروسیڈنگ کیس بھی جیت جائیں گے۔
احسن جاوید نے کہا کہ میرا مقدمہ POCA کے تحت پولیس کو حاصل اختیارات کے خلاف ہے، اس قانون کے تحت الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری ملزم پر ڈال دی گئی اور ملزم کو سب کچھ ثابت کرنا ہوتا ہے، یہ بات بھی اہم ہے کہ پولیس کو تمام اشیاء اس کی اصل حیثیت میں واپس کرنا ہوتی ہیں، ان لیپ ٹاپس میں انتہائی اہم شواہد تھے، ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان لیپ ٹاپس میں تمام ڈیٹا موجود ہے، جو ہماری اصل دولت ہے، جس کی ہمیں ضرورت ہے اور وہ ہمیں واپس کی جانی چاہئے۔
کراؤن پراسیکیوشن سروس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ منصفانہ ٹرائل کیلئے مناسب خطوط پر انکوائری نہیں کی گئی، ہم نے مقدمہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تاکہ اس کا ازالہ کرسکیں لیکن جج نے مسترد کردی، ہم اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں، سی پی ایس تفتیش کاروں کے ساتھ ابتدائی مراحل سے ہی مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ مقدمے کی بروقت تیاری کی جاسکے اور تمام فریقوں کو منصفانہ طریقے سے سنا جاسکے۔
میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ لیپ ٹاپ کی واپسی کے حوالے سے ایک اعتراض اٹھایا گیا ہے، ہم اس طرح کے الزامات کی تردید کرتے ہیں کہ لیپ ٹاپ کے پاس ورڈز تبدیل کئے گئے یا لیپ ٹاپس میں کسی بھی طرح سےغیر قانونی طور پر گڑبڑ کی گئی۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



