جہلم: فلاحی و نجی اداروں کے زیرانتظام سکولوں میں درسی کتب اور کاپیوں کی عدم فراہمی کی شکایات

جہلم: پنجاب حکومت کی جانب سے مختلف فلاحی و نجی اداروں کے سپرد کیے گئے تعلیمی اداروں میں طلبہ کو بروقت درسی کتب، کاپیاں اور دیگر ضروری تعلیمی سامان فراہم نہ کیے جانے کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں، جس کے باعث والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ طلبہ کے تعلیمی نقصان کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم سمیت پنجاب بھر میں متعدد سرکاری سکولز مختلف فلاحی اور نجی اداروں کے زیرانتظام چلائے جا رہے ہیں۔ ان اداروں کو حکومتی معاونت کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات اور ڈونرز کی جانب سے بھی مالی تعاون حاصل ہوتا ہے تاکہ زیرتعلیم بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات، ضروری تعلیمی سامان اور مناسب ماحول فراہم کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق عالمی فلاحی تنظیم مسلم ہینڈز کے زیرانتظام ضلع جہلم کے متعدد سکولوں میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے باوجود بعض طلبہ کو تاحال مکمل درسی کتب اور کاپیاں فراہم نہیں کی جا سکیں۔ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تعلیمی سرگرمیاں تیزی سے بحال ہو چکی ہیں اور سکولوں میں تدریسی عمل جاری ہے، تاہم شکایات کے مطابق متعدد طلبہ اب بھی ضروری تعلیمی مواد کے منتظر ہیں۔
متاثرہ طلبہ کے والدین کا کہنا ہے کہ درسی کتب اور کاپیوں کی عدم دستیابی کے باعث بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے اور انہیں نصاب کی بروقت تکمیل میں مشکلات کا سامنا ہے۔ والدین کے مطابق جب دیگر طلبہ کے پاس مکمل تعلیمی سامان موجود ہو اور بعض بچوں کو کتابیں اور کاپیاں دستیاب نہ ہوں تو اس سے نہ صرف ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ بچوں میں احساسِ محرومی بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب بعض سکول انتظامیہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درکار کتب فراہم کر دی گئی ہیں، تاہم متعدد والدین اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو ابھی تک تمام درسی کتابیں اور ضروری کاپیاں موصول نہیں ہوئیں، جس کے باعث وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے پریشان ہیں۔
باوثوق ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ مسلم ہینڈز کے متعلقہ ایجوکیشن افسر اور بعض ٹھیکیداروں کی مبینہ ملی بھگت سے بلز تو منظور کروا لیے جاتے ہیں، تاہم طلبہ کو مطلوبہ تعداد میں کتابیں، کاپیاں اور سکول بیگز فراہم نہیں کیے جاتے۔ ذرائع نے مزید الزام عائد کیا کہ جو کتابیں، کاپیاں اور سکول بیگز فراہم کیے جاتے ہیں، ان میں بعض مبینہ طور پر انتہائی ناقص میٹریل سے تیار کردہ ہوتے ہیں، جبکہ ناقص کاغذ سے تیار کردہ کاپیاں اور غیرمعیاری سکول بیگز یتیم طلبہ میں تقسیم کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ معاملے کے حوالے سے مسلم ہینڈز کی متعلقہ انتظامیہ یا دیگر ذمہ دار حکام کا باضابطہ مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اس کا بھی شامل کیا جانا ضروری ہوگا۔
والدین نے مسلم ہینڈز کی اعلیٰ انتظامیہ، کنٹری ہیڈ اور متعلقہ ذمہ داران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سامنے آنے والی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ سکولوں میں فراہم کیے جانے والے تعلیمی سامان، کتابوں، کاپیوں اور سکول بیگز کے معیار اور تعداد کی مکمل جانچ پڑتال کرائیں۔
والدین نے محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن/پی ایس ایس پی کے متعلقہ حکام سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، سکولوں میں طلبہ کو فراہم کیے جانے والے تعلیمی سامان کی مؤثر نگرانی کی جائے اور اگر کسی سطح پر بے ضابطگی یا غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ طلبہ کی تعلیم مزید متاثر ہونے سے بچائی جا سکے اور انہیں بروقت مکمل تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔



