آرا مشینیں اور فرنیچر پالش کے دھندے سے ماحولیاتی آلودگی کا سبب، عوام مشکلات کا شکار

جہلم شہر اور مضافاتی علاقوں میں آرا مشینوں اور فرنیچر پالش کے دھندے کا خاتمہ نہ ہونے کے باعث شہریوں کو سنگین ماحولیاتی اور صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔ خبروں کی بارہا اشاعت کے باوجود محکمہ ماحولیات اور متعلقہ افسران کی پراسرار خاموشی ان کی غفلت اور نااہلی کو ظاہر کرتی ہے۔
شہر کے گنجان آباد علاقوں اور بازاروں میں جگہ جگہ آرا مشینیں نصب ہیں، جہاں لکڑی کی کٹائی اور رندائی کی جاتی ہے۔ اس عمل سے اٹھنے والی دھول اور لکڑی کا برادہ ارد گرد کے ماحول کو شدید آلودہ کر رہا ہے، جو عام آدمی کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
اسی طرح، زیادہ تر فرنیچر بنانے والے اپنی مصنوعات کو گلیوں اور بازاروں میں رکھ کر کمپریسر مشینوں کے ذریعے پالش کرتے ہیں۔ ان مشینوں سے نکلنے والا مواد نہ صرف ماحولیاتی آلودگی بڑھاتا ہے بلکہ رہائشی افراد کو گلے اور سینے کی بیماریوں میں مبتلا کر رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ نے ان مسائل کی جانب مکمل لاتعلقی اختیار کر رکھی ہے، حالانکہ لاہور ہائی کورٹ اور حکومت پنجاب کی جانب سے آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات موجود ہیں۔ تاہم، ضلعی انتظامیہ ان احکامات کو نافذ کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
شہر کے معززین نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ فرنیچر کے کارخانوں کو گنجان آباد علاقوں سے باہر ویران جگہوں پر منتقل کیا جائے۔ مزید یہ کہ اندرون شہر اور گلی محلوں میں فرنیچر پالش کے عمل پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ شہری صحت مند اور آلودگی سے پاک ماحول میں زندگی گزار سکیں۔



