پنجاب حکومت کا سرکاری اسپتالوں میں صحت کارڈ پروگرام بند کرنے کا فیصلہ

جہلم: پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے لاکھوں غریب اور سفید پوش افراد کے لیے پریشان کن قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری ہسپتالوں میں صحت کارڈ کے ذریعے مفت علاج کی سہولت یکم جولائی 2025 سے ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

اس حوالے سے پنجاب ہیلتھ انیشیٹو مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے سربراہان کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔

مراسلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ 30 جون 2025 کے بعد پنجاب بھر میں صحت کارڈ کے ذریعے مفت علاج کی سہولت میسر نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ تمام ہسپتال 30 جون سے پہلے پہلے صحت کارڈ کے تحت کیے گئے تمام علاج کے واجبات کلیئر کر لیں کیونکہ اس تاریخ کے بعد نہ تو علاج کی سہولت جاری رہے گی اور نہ ہی ادائیگیاں کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ایک نئی پالیسی کی تیاری کے پیش نظر کیا جا رہا ہے، جس کا اعلان وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔ تاہم فی الحال صحت کارڈ بند کیے جانے کی خبر نے عوامی حلقوں، خصوصاً نچلے طبقے میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

یاد رہے کہ صحت کارڈ کا یہ منصوبہ دسمبر 2021 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دور میں متعارف کروایا گیا تھا، جس کے تحت پنجاب بھر کے مستحق شہریوں کو سرکاری و بعض نجی ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ اس سہولت نے ہزاروں خاندانوں کو بھاری علاج معالجے کے اخراجات سے بچایا اور انہیں معیاری طبی امداد تک رسائی فراہم کی۔

صوبائی حکومت کے اس فیصلے پر شہری و سماجی حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک نئی پالیسی متعارف نہیں کروائی جاتی، تب تک صحت کارڈ کی موجودہ سہولت کو جاری رکھا جائے، تاکہ غریب مریض علاج سے محروم نہ رہیں۔ بصورتِ دیگر اس اقدام سے لاکھوں افراد کی صحت اور زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button