عید الاضحیٰ؛ جہلم سے پردیسیوں کی گھروں کو روانگی شروع، کرایوں میں ہوشربا اضافہ

جہلم: عید قربان کی آمد کے ساتھ ہی پردیسیوں کی اپنے آبائی علاقوں کو واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، مگر اس موقع پر ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں من مانا اضافہ کر کے مسافروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسافر علی اکبر نے بتایا کہ وہ عید منانے کے لیے اپنے گھر جا رہے ہیں مگر ٹرانسپورٹرز معمول سے کہیں زیادہ کرایہ وصول کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جنرل بس اسٹینڈ پر نہ تو صاف پانی کی سہولت ہے اور نہ ہی واش رومز کی دستیابی ہے، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پنڈدادنخان سے تعلق رکھنے والے مسافر امین اللہ نے بتایا کہ یہاں نہ کوئی سرکاری کاؤنٹر موجود ہے اور نہ ہی شکایات درج کروانے کا کوئی طریقہ کار نظر آتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ متعلقہ سرکاری محکموں کی سرپرستی کے بغیر ٹرانسپورٹرز اتنے بااختیار نہیں کہ کھلے عام اضافی کرایہ وصول کریں۔
مسافر رضوان نے بتایا کہ ہر تہوار پر یہی صورتحال پیش آتی ہے، جب ٹرانسپورٹرز ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA)، موٹر وہیکل ایگزامینر اور ٹریفک پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے کرایوں میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی چیکنگ یا کنٹرول کا مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔
دوسری جانب ٹرانسپورٹرز کا موقف ہے کہ اس بار حالات خراب ہیں اور سواریوں کی تعداد پچھلی عید کے مقابلے میں خاصی کم ہے کیونکہ عوام کی مالی حالت بہتر نہیں رہی۔ ایک ٹرانسپورٹر عرفان نزیر نے کہا کہ حکومت صرف میڈیا پر قانون کی حکمرانی کے دعوے کرتی ہے جبکہ عملی طور پر افسران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہوتے ہیں اور عوام کو لٹنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
شہریوں نے کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ جنرل بس اسٹینڈ جہلم پر فوری طور پر سرکاری افسران کی نگرانی میں ایک شکایتی کاؤنٹر قائم کیا جائے اور سرکاری کرایہ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عید جیسے اہم موقع پر مسافروں کو بلاوجہ لوٹنے سے بچایا جا سکے۔



