مرکزی سنی علماء کونسل کا دربار سلیمان پارس کے باہر بھرپور مظاہرہ، غیر شرعی رسومات کے خاتمے کا مطالبہ

جہلم: مرکزی سنی علماء کونسل ضلع جہلم کے صدر پروفیسر مفتی ثنا اللہ تنویر کی سرپرستی میں دربار سلیمان پارس کے باہر ایک بھرپور مظاہرہ کیا گیا، جس میں علمائے کرام اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام نے کہا کہ مختلف مزارات پر ایسے افعال اور رسوم سرانجام دیے جا رہے ہیں جو سراسر غیر شرعی اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔ ان غیر اسلامی اعمال میں قبروں کو سجدہ کرنا، نشہ آور اشیاء کا استعمال، مرد و زن کا رقص و سرور کا اہتمام، فحش امور کا انعقاد اور دیگر خرافات شامل ہیں۔
مقررین نے کہا کہ یہ تمام حرکات قرآن و سنت اور شریعتِ مطہرہ کے بالکل خلاف ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
اس موقع پر علمائے کرام نے محکمہ اوقاف کے ذمہ داران کو خبردار کیا کہ وہ ایسے غیر شرعی افعال کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں، ورنہ عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مرکزی سنی علماء کونسل کے قائدین نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ملوث ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔



