پنڈدادنخان میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ڈسپنسر کا مبینہ جعلی کلینک سیل

پنڈدادنخان: عوامی صحت کے تحفظ اور عطائیت کے خاتمے کے لیے جاری انسدادِ عطائیت مہم کے دوران محکمہ صحت نے سمن وال کے علاقے میں ایک غیر قانونی کلینک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے سیل کر دیا۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پنڈدادنخان ڈاکٹر انجم قدیر کی نگرانی میں ہونے والی کارروائی کے دوران حبیب نامی شخص کے زیرِ انتظام کلینک کا اچانک معائنہ کیا گیا۔ معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ محمد حبیب نامی شخص مریضوں کا علاج معالجہ کر رہا تھا۔

محکمہ صحت کے مطابق ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پنڈدادنخان میں بطور ڈسپنسر خدمات انجام دے رہا ہے، تاہم وہ کسی تسلیم شدہ طبی ڈگری یا پیشہ ورانہ اہلیت کا حامل نہیں تھا۔ مزید یہ کہ کلینک کے لیے کوئی رجسٹریشن، لائسنس یا قانونی اجازت نامہ بھی پیش نہیں کیا جا سکا۔

معائنہ کے دوران موقع پر استعمال شدہ سرنجیں، انجیکشنز، ڈرپ سیٹس اور دیگر طبی سامان موجود پایا گیا جبکہ طبی سرگرمیاں محکمانہ قوانین، ضوابط اور ایس او پیز کے برعکس جاری تھیں۔

محکمہ صحت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کلینک کو موقع پر سیل کر دیا، تمام متعلقہ شواہد اور طبی سامان اپنی تحویل میں لے لیا اور ذمہ دار شخص کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ حکام کے مطابق کیس مزید کارروائی کے لیے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو بھی بھجوایا جا رہا ہے۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر انجم قدیر نے کہا کہ غیر مستند افراد کے زیرِ استعمال کلینکس عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ایسے مراکز میں غیر محفوظ انجیکشنز اور طبی آلات کے استعمال سے ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی/ایڈز جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عطائیت نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف عمل ہے، جس کے خلاف محکمہ صحت زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈاکٹر انجم قدیر نے شہریوں سے اپیل کی کہ علاج معالجہ ہمیشہ مستند، رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ ڈاکٹرز سے کروائیں۔ اگر کسی علاقے میں غیر قانونی کلینک یا عطائی سرگرمیوں کی اطلاع ہو تو فوری طور پر محکمہ صحت کو آگاہ کیا جائے تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

نوٹ: خبر میں شامل الزامات اور معلومات محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ بیان اور کارروائی کی تفصیلات پر مبنی ہیں، جن کی حتمی قانونی حیثیت متعلقہ تحقیقات اور کارروائی کے بعد طے ہوگی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button