عیدالفطر کے دوران گوشت کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، عوام پریشان

جہلم: عید الفطر کی چھٹیوں کے دوران شہر سمیت ضلع بھر میں گوشت کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے نے تنخواہ دار اور دیہاڑی دار طبقے کے لیے مرغی، گائے اور بکرے کے گوشت کی خریداری ناممکن بنا دی۔
ضلع بھر میں پرائس کنٹرول کے فقدان کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شہریوں نے شکایت کی ہے کہ عید الفطر کے تینوں ایام میں شہری علاقوں میں مرغی کے گوشت کی قیمت 800 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی جبکہ دیہی علاقوں میں یہ قیمت 1000 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ حالانکہ حکومت پنجاب کی جانب سے مرغی کے گوشت کی قیمت 597 روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی۔
اسی طرح گائے کے گوشت کی قیمت بھی آسمان کو چھوتی رہی، شہری علاقوں میں 1200 روپے اور دیہی علاقوں میں 1100 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جاتا رہا جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بڑے گوشت کی سرکاری قیمت 800 روپے مقرر کی گئی تھی۔
بکرے کے گوشت کی قیمت میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا، سرکاری نرخ نامے کے مطابق بکرے کے گوشت کی قیمت 1600 روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی لیکن قصابوں نے من مانی کرتے ہوئے اسے 2200 سے 2500 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا، جس کی وجہ سے تنخواہ دار، دیہاڑی دار اور سفید پوش طبقے کے لیے اس کی خریداری ناممکن ہو گئی۔
ضلع جہلم کے شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ضلع میں لاگو جنگل کے قانون کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کریں اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو سختی سے چیکنگ کا پابند بنایا جائے تاکہ عوام کو حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ دستیاب ہو سکیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔



