جہلم میں مہنگائی کا جن بے قابو، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ

جہلم شہر اور گردونواح میں مہنگائی کا جن بے قابو، اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان پر، خودسر دکان داروں نے حکومتی نمائندگان و انتظامیہ کے ریلیف کے دعووں کو پس پشت ڈال دیا۔

لوٹ مار کا بازار گرم دودھ، دہی، روٹی، نان، دالیں اور سبزیاں شہریوں کی پہنچ سے دور ہیں، آٹےکی قیمت کو بھی پر لگ گئے۔ مارکیٹ میں دودھ 250 روپے اور دہی 200روپے کلو گرام فروخت ہونے لگا۔ دال چنا بیسن 400 روپے سے تجاوزعلاقائی سبزیاں بھی سینچری کا ہندسہ عبور کر چکیں۔ موسم سرماکی مقامی سبزیاں مٹر 400 روپے کلو گرام کے حساب سےفروخت ہو رہے ہیں۔

بازاروں میں پھل عام آدمی کو قریب کھڑا نہیں ہونے دیتے جو کہ انتظامیہ کی نا اہلی اور مقامی دکانداروں کی من مانی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ گوشت اور چکن کے نرخ بھی عام صارفین کی پہنچ سے دور ہو گئے جبکہ تول میں بھی فرق ہے ایک کلو گوشت کی بجائے خریدار کو 800 گرام گوشت تھما دیا جاتا ہے۔

شہری حلقوں میں مصنوعی مہنگائی لوٹ مار کا بازار گرم رکھنے پر تشویش کی لہر پائی جاتی ہے، آٹے کی قیمت کو بھی پر لگ چکے 20 کلو آٹے کا تھیلا بھی من مرضی کے نرخوں پر فروخت کیا جارہا ہے۔

مقامی، سماجی و شہری حلقوں نے مصنوعی مہنگائی میں ملوث آڑھتی (مڈل مین) اور دکانداروں کے خلاف سخت کارروائیاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور سرکاری نرخوں پر اشیائے خورد و نوش کی فروخت کو یقینی بنانے و قانون پر عملداری کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button