پنجاب حکومت نے بلدیاتی نظام کو فعال بنانے کےلیے حکمت عملی مرتب کرلی

جہلم: پنجاب حکومت نے بلدیاتی نظام کو مزید فعال بنانے کے لیے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025ء کی حکمت عملی مرتب کر لی ہے، جس کے تحت ضلع کونسل کو ختم کرکے ضلعی اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس نئے نظام کے مطابق ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر ضلعی اتھارٹی کا چیئرمین ہوگا جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایگزیکٹو بورڈ کے سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے گا۔
ضلعی اتھارٹی میں تمام محکموں کے سربراہان بطور ممبر شامل ہوں گے، جن میں محکمہ صحت، محکمہ تعلیم، سوشل ویلفیئر، پاپولیشن کنٹرول، کھیل و ثقافت، ٹرانسپورٹ، سول ڈیفنس، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور سیاحت شامل ہیں۔
اس نئے بلدیاتی نظام کے تحت یونین کونسل مقامی حکومت کی بنیادی اکائی ہوگی اور پورے ضلع کو مختلف لوکل گورنمنٹ یونٹس میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر یونین کونسل میں 9 جنرل ممبران ہوں گے جبکہ مخصوص نشستوں میں ایک خاتون، ایک اقلیتی نمائندہ، ایک یوتھ ممبر اور ایک کسان یا لیبر ممبر شامل ہوگا۔ یونین کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب منتخب ممبران کریں گے۔
نئے نظام کے تحت تحصیل کونسل کا قیام بھی عمل میں آئے گا، جس کا ایک چیئرمین اور دو وائس چیئرمین ہوں گے، جبکہ مخصوص نشستوں کے علاوہ تمام یونین کونسلوں کے چیئرمین بھی اس کے ممبر ہوں گے۔ شہری علاقوں میں ٹاؤن کارپوریشن قائم کی جائے گی، جس میں ایک میئر اور دو ڈپٹی میئر شامل ہوں گے۔ مری کو چھوڑ کر تمام بڑے شہروں میں میونسپل کارپوریشن ہوگی جبکہ میونسپل کمیٹی میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کے علاوہ مخصوص نشستوں پر بھی نمائندگی دی جائے گی۔
بلدیاتی اداروں کے دائرہ اختیار میں واٹر سپلائی، سیوریج سسٹم، نالوں اور صفائی کا نظام، سڑکوں اور گلیوں کی دیکھ بھال، پبلک ٹرانسپورٹ، فائر بریگیڈ، اسٹریٹ لائٹس، پارک، قبرستان، پارکنگ، کھیل کے میدان، سلاٹر ہاؤس، میونسپل لائبریری، ٹرانسپورٹ اڈے اور ثقافتی سرگرمیاں شامل ہوں گی۔ لوکل گورنمنٹ کا سربراہ اکنامک ڈیولپمنٹ اسٹریٹجی جاری کرے گا جبکہ یونین کونسلوں کو اپنے اپنے علاقوں میں ثالثی کونسل کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔
حکومت نے جرمانوں کی نئی شرحیں بھی مقرر کر دی ہیں، جن میں بغیر اجازت کھدائی پر 2,000 روپے جرمانہ ہوگا، جبکہ ہسپتالوں اور اسکولوں کے قریب شور شرابہ، ڈھول بجانے یا میوزک بجانے پر 5,000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اسی طرح غیر منظور شدہ جگہوں پر اشتہاری مہم کے لیے 10,000 روپے جرمانہ ہوگا جبکہ کسی بھی عوامی جگہ، نالے یا گٹر میں نقصان دہ مواد پھینکنے پر صنعتی صارفین کو 10,000 روپے، کمرشل صارفین کو 5,000 روپے اور گھریلو صارفین کو 2,000 روپے جرمانہ دینا ہوگا۔ بغیر اجازت ریڑھی لگانے پر 500 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ حکومت نے کچھ خلاف ورزیوں کو عدالتی کارروائی کے زمرے میں بھی شامل کیا ہے، جن میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی، بغیر اجازت مویشی منڈی لگانا اور غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈے قائم کرنا شامل ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ نیا بلدیاتی نظام مقامی حکومتوں کو مزید خودمختار بنانے اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے متعارف کروایا جا رہا ہے۔



