نئی صوبائی حکومت، گرتا ہوا تعلیمی معیار اور نئی تعلیمی پالیسی کے لیے گزارشات

راقم نے صوبائی محکمہ تعلیم میں بطور ایلیمنٹری ٹیچر 28 سال سروس کی ہے، میں نے جب1996 میں بطور معلم محکمہ تعلیم میں جوائننگ کی اس وقت اس محکمے کی کارکردگی بھلے اچھی نہ تھی لیکن اوسط درجے کی ضرور تھی، اس کے بعد اپنی ملازمت کے دوران میں نے اپنے محکمہ کی اس اوسط درجے کی کارکردگی کو بدتر حالت میں پہنچنے تک اپنی انکھوں سے دیکھا ہے۔

بطور ایک معلم پنجاب میں مریم نواز صاحبہ کی زیر قیادت بننے والی صوبائی حکومت کے لیے اپنے تجربات کی روشنی میں درج ذیل گزارشات کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

جزا اور سزا کے نظام کی بحالی

میں نے جب بطور معلم اپنی خدمات شروع کی تو اس وقت پنجاب کے تمام سکولوں میں طلباء کے لیے جزا اور سزا کا ایک نظام نافذ تھا، تعلیمی سال کے اختتام پر طلباء کا امتحان لیا جاتا تھا اس امتحان کے نتائج کی روشنی میں طلباء کو یا تو اگلی جماعت میں جانے کے لیے اہل قرار دیا جاتا تھا یا پھر اس کے اچھے نتائج نہ ہونے کی وجہ سے طالب علم کو اس کلاس میں روک لیا جاتا تھا۔

طلباء کے لیے رائج اس نظام کی وجہ سے طلباء پورا تعلیمی سال اس ڈر کی وجہ سے محنت کرتے تھے کہ کہیں انہیں اگلی جماعت میں جانے کے لیے اہل قرار دینے کی بجائے اسی جماعت میں ہی نہ روک لیا جائے، طلباء کے ساتھ ساتھ ان کے والدین بھی پورا سال اپنے بچوں کی تعلیمی پوزیشن کو چیک کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کردار ادا کرتے تھے۔

2001 تک اس نظام کے چلنے کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی اوسط درجے کی پوزیشن برقرار تھی، اس کے بعد حکومت پنجاب نے جزا اور سزا پر مبنی اس نظام سے جزا کے لفظ کو سرے سے اڑا دیا، اس تبدیلی کی وجہ سے طالب علم کو یہ یقین ہو گیا کہ اس نے ہر حال میں اگلے تعلیمی سال میں اگلی جماعت کے لیے اہل قرار پانا ہے، اس سوچ کی وجہ سے طالب علم نے پورے تعلیمی سال میں اپنی تعلیم کی طرف توجہ دینا چھوڑ دیا اور دیگر مشاغل میں دلچسپی لینا شروع کر دیا۔

طلباء کے ساتھ ساتھ ان کے والدین نے بھی جب انہیں یقین ہو گیا کہ ان کے بچوں نے ہر حال میں اگلی جماعت میں کامیابی کا اہل قرار پانا ہے تو انہوں نے بھی اپنے بچوں کی تعلیمی کارکردگی بارے دلچسپی لینا چھوڑ دیا، میرے خیال میں صوبائی محکمہ تعلیم کے زیر انتظام چلنے والے تمام سکولز میں طلباء کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جزا اور سزا کے اس نظام کو دوبارہ نافذ کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔

اساتذہ کو سینیا رٹی کی بجائے کارکردگی پر ترقی دینے کا نظام وضع کرنا

سرکاری اداروں میں تعینات اساتذہ کی محکمانہ ترقی کے لیے موجودہ نظام صرف سنیارٹی کے ارد گرد گھومتا ہے، سنیارٹی پر مبنی اس نظام کی وجہ سے سرکاری سکولوں میں تعینات اساتذہ کو یہ یقین ہوتا ہے کہ چاہے ان کی کارکردگی جیسی بھی ہوگی وہ اپنی سنیارٹی کی وجہ سے اگلے سکیل میں ترقی لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اس سوچ کی وجہ سے پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں تعینات اساتذہ کی اکثریت اپنے کام کی ادائیگی میں اس قدر محنت سے کام نہیں لیتی جس قدر انہیں لینی چاہیے۔ نئی تعلیمی پالیسی میں اساتذہ کی ترقی کو ان کی کارکردگی سے مشروط کر دینا چاہیے۔ موجودہ ترقی کے رائج نظام کی وجہ سے اوسطاً 10 فیصد اساتذہ اگلے سکیلز میں ترقی لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

اگر اس کی جگہ صوبائی حکومت پنجاب نئی تعلیمی پالیسی میں ہر ضلع میں تعینات ہر سطح کے اساتذہ کی دس فیصد تعداد کو کارکردگی کی بنیاد پر اگلے سکیل میں ترقی دینے کا نظام رائج کر دے تو اس سے اساتذہ میں مقابلے کا رجحان پیدا ہوگا، اساتذہ اپنی ترقی حاصل کرنے کے لیے بہتر سے بہتر کارکردگی کو یقینی بنائیں گے، ان کی محنت کی وجہ سے سرکاری اداروں میں پڑھنے والے بچوں کا معیار تعلیم بلند ہوگا۔

پنجاب بھر میں والدین کی طرف سے اپنے بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں داخل کرانے کے رجحان میں کمی آئے گی۔ دوسری طرف اہل ذہین اور محنتی اساتذہ کو ان کی محنت کا پھل ان کی ترقی کی صورت میں ملے گا، اس نظام کی وجہ سے حکومت پنجاب کو کوئی اضافی وسائل بھی نہیں لگانے پڑیں گے۔

اساتذہ کے لیے رائج ملازمت کے قوانین میں تبدیلی

اساتذہ کے لیے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے مختلف سکیلز اور آسامیوں پر تعیناتیوں کے لیے مختلف قسم کی تعلیمی استعداد کے پیمانےمقرر کیے گئے ہیں اور ان کے لیے 55 سال کی عمر تک ملازمت کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی میں ان قوانین کی جگہ نئے قوانین لاگو کیے جانے چاہیے۔

اساتذہ کے لیے پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں صرف دو طرز کی اسامیاں ہونی چاہیے، ایک ایلیمنٹری ٹیچر اور دوسرا سیکنڈری ٹیچر دونوں کے لیے اہلیت یکساں ہونی چاہیے، صرف ان کے سکیلز ان کی آسامی کے مطابق ان کو دیے جانے چاہیے، اساتذہ کے لیے 55 سال کی عمر تک ملازمت کرنے کی شرط کو حذف کر دینا چاہیے اس کی جگہ اساتذہ کے لیے 20 سال سروس کے بعد اگر انہیں محکمانہ ترقی ملنے کا موقع نہ ہو تو ان کی لازمی ریٹائرمنٹ کا نظام لاگو کیا جانا چاہیے۔

اس فیصلے کی وجہ سے ایک تو اساتذہ کی ایک بہت بڑی تعداد ہر سال سروس سے ریٹائر ہو کر آسامیاں خالی کرے گی جس کی وجہ سے ہزاروں بے روزگار گریجویٹ ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

دوسری طرف جو اساتذہ 20 سال تک تعلیمی خدمات سرانجام دیتے ہیں، 20 سال کے بعد دنیا میں تعلیمی میدان میں آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے وہ بہتر فرائض سرانجام نہیں دے سکتے اور ان کی جگہ جو تازہ ذہن محکمہ میں بطور استاد ملازمت حاصل کریں گے وہ موجودہ ضرورتوں کے مطابق طلباء کو تعلیم دینے کی تمام تر خوبیوں کے حامل ہوں گے۔

ریشنلائزیشن

میں بطور سابق معلم پنجاب بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں ریشنلائزیشن کو موجودہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت سمجھتا ہوں۔ ریشنلائزیشن کی وجہ سے ایک طرف تو پنجاب بھر کےایسے تعلیمی اداروں میں جہاں پر طلباء کی تعداد زیادہ ہے انہیں اس تعداد کے حساب سے پڑھانے کے لیے اساتذہ میسر ہوں گے اور جن سکولز میں طلباء کی تعداد انتہائی کم ہے اور ان اداروں میں اساتذہ کی بہت بڑی تعداد موجود ہونے کی وجہ سے مسلسل تعینات رہی ہے۔

ریشنلائزیشن کے عمل کی وجہ سے ان اساتذہ کو زیادہ تعداد والے سکولوں میں بھیجا جا سکے گا اور ان اسامیوں پر بھی تعینات کیا جا سکے گا جو عرصہ دراز سے مختلف سکولز میں خالی چلی آرہی ہیں۔ اس انتظامی فیصلے سے جہاں پر تعلیمی اداروں میں سٹاف کی تعیناتی کا مسئلہ حل ہوگا وہیں حکومت پنجاب کو ان ہزاروں خالی آسامیوں پر نئی تعیناتی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، ان آسامیوں کو ختم کرنے سے صوبائی حکومت پنجاب پر پڑھنے والے مالی بوجھ میں نمایاں کمی آئے گی۔

سیاسی بنیادوں پر اور انتظامی افسران کی ناقص حکمت عملی پر قائم کیے گئے اسکولوں کا خاتمہ

سابقہ ادوار میں پنجاب بھر میں سیاسی بنیادوں پر اور انتظامی افسران کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ایسے ہزاروں سکولز قائم کیے گئے جن کی مقامی آبادی کو ضرورت نہ تھی اس ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے صوبائی حکومت پنجاب کو اپنے وسائل کا ایک بہت بڑا حصہ ان اداروں کے قیام کی وجہ سے ان اداروں میں سہولیات کی فراہمی اساتذہ اور دیگر سٹاف کی تنخواہوں اور پنشن کی مد میں ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

صوبائی حکومت پنجاب کو نئی تعلیمی پالیسی کے تحت ایسے تمام سکولوں کو ختم کر دینا چاہیے، ان میں تعینات اساتذہ اور دیگر سٹاف کو ایسے تعلیمی اداروں میں ٹرانسفر کر دینا چاہیے جہاں ان کی ضرورت ہے اور آسامیاں خالی پڑی ہیں اور ان کو ختم کیے جانے والے اداروں کی عمارتیں اور زمین بذریعہ نیلام عام نیلام کر دینی چاہیے، ان سے ملنے والے وسائل حقیقی ضرورت کے حامل تعلیمی اداروں پر لگانے چاہیے۔

اس ایک فیصلے سے پنجاب بھر میں قائم حقیقی ضرورتوں کے حامل تعلیمی اداروں میں خالی آسامیاں بھی پر ہو جائیں گی اور بچوں کا معیار تعلیم بہتر بنانے کے لیے درکار سہولتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ نئی تعلیمی پالیسی میں تین سطح کے سکولز بنائے جانے چاہیے۔

نمبر ایک پرائمری سکولز: پرائمری سکولز میں کل چار کلاسز ہونی چاہیے۔ نرسری، اول، دوئم اور سوئم چار کلاسز کے لیے چارعدد ایلیمنٹری معلم اور ایک عدد سینئر ایلیمنٹری ٹیچر سربراہ ادارہ اس کے بعد ایلیمنٹری سکول۔ ایلیمنٹری سکول میں کل نو کلاسز ہونی چاہیے۔ نرسری، اول، دوئم، سوئم، چہارم، پنجم، ششم، ہفتم اور ہشتم۔ جس گاؤں میں ایلیمنٹری سکول موجود ہے وہاں پرائمری سکول کو ایلیمنٹری سکول میں ضم کر دینا چاہیے۔

ایک ایلیمنٹری سکول میں درج ذیل سٹاف تعینات کیا جانا چاہیے۔ نمبر ایک سربراہ ادارہ، سائنس ٹیچرز ایلیمنٹری ،تین عدد آرٹس ایلیمنٹری ٹیچرز، تین عدد انگلش ایلیمنٹری ٹیچرز، دو عدد ایلیمنٹری کمپیوٹر ٹیچرز، دو عدد ایلیمنٹری فزیکل ایجوکیشن ٹیچر، ایک عدد ایک عدد نائب قاصد، ایک عدد کلینر ایک عدد چوکیدار۔

اس کے بعد سیکنڈری سکولز میرے خیال میں ہر یونین کونسل میں صرف دو سیکنڈری سکولز ہونے چاہیے، ایک سیکنڈری سکول برائے گرلز اور ایک سیکنڈری سکول برائے بوائز ایک یونین کونسل کی آبادی عام طور پر 15 سے 20 ہزار نفوس پر مشتمل ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک یونین کونسل میں پانچ سے 10 گاؤں کی آبادی شامل ہوتی ہے۔ اس آبادی کے لیے ایک سیکنڈری سکول برائے گرلز اور ایک سیکنڈری سکول برائے بوائز کافی ہیں۔

پنجاب بھر میں جن یونین کونسلز میں ایک سے زائد بوائز اور ایک سے زائد گل سکول موجود ہیں انہیں ایک ایک میں ضم کر دینا چاہیے۔ کسی بھی سیکنڈری سکول میں درج ذیل سٹاف کا تعینات کیا جانا ضروری ہے۔

نمبر ایک سربراہ ادارہ، سائنس سیکنڈری سکول ٹیچرز چار عدد، ایلیمنٹری سائنس ٹیچرز چار عدد، سیکنڈری سکول ٹیچرز برائے ریاضی دو عدد، سیکنڈری سکول ٹیچرز برائے کمپیوٹرز دو عدد، ایلیمنٹری کمپیوٹر ٹیچرز دو عدد، چھوٹی چھوٹی انگلش سیکنڈری سکول ٹیچرز دو عدد، ایلیمنٹری انگلش سکول ٹیچرز دو عدد، جنرل آرٹس سیکنڈری سکول ٹیچرز دو عدد، ایلیمنٹری آرٹس ٹیچرز دو عدد، فزیکل ایجوکیشن سیکنڈری سکول ٹیچر ایک عدد، فزیکل ایجوکیشن ایلیمنٹری سکول ٹیچر ایک عدد، ایک آسامی برائے کلرک دو عدد، آسامیاں لیب اٹینڈنٹ برائے سائنس لیب دو عدد، آسامیاں لیب اٹینڈنٹ برائے کمپیوٹر لیب، نائب قاصد دو عدد، سیکورٹی گارڈ دو عدد کلینرز دو عدد۔

نئی تعلیمی پالیسی میں اساتذہ کی صرف دو کیٹگریز ہونی چاہیے، ایک ایلیمنٹری سکول ٹیچرز جن کے ذمہ نرسری تا ہشتم کو پڑھانا شامل ہو، دوسری کیٹگری سیکنڈری سکول ٹیچرز کی ہونی چاہیے، سیکنڈری سکول ٹیچر کی ذمہ داری حصہ سیکنڈری کو پڑھانا ہونی چاہیے۔

یکساں نصاب

نئی تعلیمی پالیسی میں تمام اداروں کو بشمول پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ایک نصاب کے مطابق طلباء کو تعلیم دینے کا پابند بنانا چاہیے۔ یکساں نصاب لاگو ہونے کے بعد جو پرائیویٹ تعلیمی ادارے اس کی خلاف ورزی کریں، ان کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جانی چاہیے۔ اس فیصلے سے امیر اور غریب گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو برابر کے تعلیمی مواقع میسر آئیں گے۔

ہر سطح کے ادارے کے لیے بورڈ آف گورنرز کا قیام

نئی تعلیمی پالیسی کے تحت پنجاب بھر میں قائم ہر سطح کے تعلیمی اداروں کے لیے علیحدہ علیحدہ بورڈ اف گورنرز کا قیام لازمی قرار دینا چاہیے۔ اس بورڈ کواس ادارہ کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ہر قسم کے اختیارات حاصل ہونے چاہیے، سربراہ ادارہ اور دیگر سٹاف کو بورڈ آف گورنرز کے کیے گئے فیصلوں پر عمل کرنے کا پابند بنایا جانا چاہیے۔

بزم ادب سوشل ورک اور کھیل کے لیے لازمی اوقات کار کا تعین

نئی تعلیمی پالیسی میں ہر سطح کے تعلیمی ادارہ میں ہفتہ وار بزم ادب کا پروگرام لازمی منعقد کیا جانا قرار دیا جائے طلباء کو روزانہ کی بنیاد پر کم از کم 30 منٹ کھیلنے کے لیے وقت دیا جانا لازمی قرار دیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ طلباء کو ہفتے میں کم از کم دو پیریڈ سوشل ورک کے لیے دیے جانے لازمی قرار دیے جائیں۔

اس فیصلے سے بچوں کے اندر خود اعتمادی سماجی مشکلات سے نپٹنے کی صلاحیت اور قائدانہ صلاحیتیں جنم لیں گی، تمام تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لیے سال میں کم از کم ایک بار یونین کونسل سطح سے لے کر صوبائی سطح تک مقابلوں کا انعقاد بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اس سلسلہ میں تحصیل سپورٹس افیسر سے لے کر سیکرٹری سپورٹس صوبہ پنجاب تک کے تمام ذمہ داران کو بھی طلباء کی سہولت کے لیے اور طلباء کے درمیان مقابلوں کے انعقاد کے لیے خصوصی احکامات جاری ہونے چاہیے۔

ٹرانسفار اینڈ پوسٹنگ پالیسی

پنجاب میں رائج موجودہ پوسٹنگ اور ٹرانسفر پالیسی کو تبدیل کر کے نئی پوسٹنگ اور ٹرانسفر پالیسی کا اجرا کیا جانا چاہیے، اس پالیسی کے مطابق کسی بھی سطح کے ٹیچر کے لیے تعلیمی درکار قابلیت کو گریجویشن مقرر کر دینا چاہیے، اس پالیسی کے مطابق کسی بھی سطح کے سکول کے سربراہ کو تین سال بعد وہاں سے لازمی ٹرانسفر کر دیا جانا چاہیے جب کہ اساتذہ کے لیے یہ معیاد عرصہ پانچ سال مقرر ہونی چاہیے۔

بعض اداروں میں عرصہ25،25 یا 30،30سال سے تعینات ہونے والے اساتذہ کی وجہ سے ان اداروں میں گروپ بندیاں جنم لیتی ہیں جو تعلیمی ماحول خراب کرنے کا باعث بنتی ہیں، اساتذہ کے لیے لاگو کی جانے والی اس روٹیشن پالیسی کی وجہ سے اداروں میں دھڑے بندیاں ختم ہوں گی اور بہتر تعلیمی ماحول بنانے میں مدد ملے گی۔

معاشرے میں معلم کی تعظیم میں اضافے کے لیے اقدامات

دنیا جہاں کے مہذب ممالک میں اساتذہ کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے جب کہ ہمارے ملک میں اساتذہ کو وہ معاشرتی مقام حاصل نہیں جو قوموں کی تربیت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ نئی صوبائی حکومت کو نئی تعلیمی پالیسی میں اساتذہ کی تعظیم کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہیے۔

اس سلسلے میں صوبائی اسمبلی سے ایک بل پاس کرایا جانا چاہیے، اس بل کے تحت صوبائی حکومت کے تمام اداروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ہر حال میں اساتذہ کی عزت و احترام ملحوظ خاطر رکھیں اور جب کبھی کوئی معلم کسی بھی ادارے میں کسی کام کے سلسلے میں جائے تو اس ادارے کے افسران اور ملازمین اس معلم کو سیلوٹ کرنے کے پابند ہوں اور اس معلم کا کام ترجیحی بنیادوں پر نپٹائیں۔

معلم کو معاشرے میں بہتر مقام ملنے کی وجہ سے ہمارے ملک کے نوجوانوں میں معلم بننے کی سوچ پیدا ہوگی، اچھا ذہن بطور معلم اداروں میں آئے گا ان کے انے سے ان اداروں کا معیار تعلیم بہت زیادہ بلند ہوگا۔

اساتذہ کے لیے سپیشل پے سکیلز کی منظوری

نئی تعلیمی پالیسی میں اساتذہ کے لیے سپیشل پے سکیلز مقرر کیے جائیں، اساتذہ کی بھرتی پنجاب پبلک سروس کمیشن کے امتحان کے ذریعے کی جائے تاکہ میرٹ پر تعینات ہونے کی وجہ سے سب سے اہل اور ذہین لوگ ان اداروں میں بطور معلم اپنے فرائض انجام دینے کے لیے لائے جا سکیں۔

رٹا سسٹم کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات

نئی تعلیمی پالیسی میں ایسے تمام اقدامات لازم قرار دیے جائیں جن کی وجہ سے رٹا سسٹم کی حوصلہ شکنی ہو فی ساتھ نمبروں کی جگہ گریڈنگ سسٹم کا اجراء ہو طلباء کو روزانہ کی بنیاد پر مختلف عنوانات پر اپنے ذرائع سے مواد اکٹھا کر کے لانے کا سلسلہ شروع ہونا چاہیے تاکہ طلباء سوشل میڈیا انٹرنیٹ الیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا کا استعمال اپنی تعلیم کے لیے کرنا شروع کر دیں اور اس کے ساتھ ساتھ اداروں کو کنسپچول سٹڈی کی طرف لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button