جہلم میں سرکاری اراضی اور شاملات پر مافیا کا قبضہ، شہری لاقانونیت سے عاجز

جہلم: سرکاری اور شاملات اراضی قبضہ مافیا کے لیے آسان ہدف بن چکی ہیں جبکہ محکمہ مال میں برسوں سے تعینات پٹواری اور دیگر اہلکار ان قبضہ گروپوں کے بڑے معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ بااثر افراد کی پشت پناہی سے ہر طرح کا ریکارڈ حسبِ منشا تیار کرنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جس سے شہری بدترین لاقانونیت کا شکار ہو چکے ہیں۔

جہلم شہر سمیت ملحقہ علاقوں میں سرکاری زمینوں، شاملات اراضی پر ناجائز قبضے عروج پر ہیں، جہاں قبضہ گروپوں نے ڈیروں، مکانات اور دیگر تعمیرات قائم کر رکھی ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر مسمار کیا جائے اور زمین کو واگزار کروا کر عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق جہلم اور اس کے گردونواح میں برسوں سے قبضہ مافیا سرگرم ہے، جو کمزور شہریوں کی زرعی اراضی کے ساتھ ساتھ سرکاری اور شاملات زمینوں پر بھی قابض ہو چکا ہے۔ مقامی پٹواری اور ان کے پرائیویٹ منشی نہ صرف ان عناصر کو ریکارڈ فراہم کرتے ہیں بلکہ سرکاری ریکارڈ میں من مانی تبدیلیاں بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ متعدد شکایات کے باوجود ان بااثر پٹواریوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی، جبکہ ان کی ملی بھگت سے ناجائز اثاثے بنائے جا رہے ہیں۔

شہر اور قریبی دیہاتوں میں کئی مقامات پر قبضہ مافیا نے اپنے ڈیرے قائم کر رکھے ہیں۔ سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے بعض اہم علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات، رہائشی علاقوں میں مویشیوں کے باڑے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں عام ہو چکی ہیں۔

شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے اپیل کی ہے کہ سرکاری اور شاملات زمینوں کو قبضہ مافیا سے واگزار کروا کر عوامی مفاد کے منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ غریب اور مستحق افراد کو روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button