پاکستانی کمیونٹی کیلئے مستقبل کی قیادت تیار کرنا اور درپیش مسائل پرتبادلہ خیالات ضروری ہے، مقررین

برمنگھم: وائبرنٹ وائسز کے زیر اہتمام ایک سیمینار اربن ولیج ہال میں منعقد ہوا جس کا مقصد پاکستانی کمیونٹی میں لیڈر شپ پروگرام کو متعارف کروانا تھا تاکہ موجودہ قائدانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کے تجربات اور مشاہدات سے استفادہ کرتے ہو ئے جواں سال نسل میں قیادت کی منتقلی اور ان کو آنے والے حالات سے مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔
دیگر منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانی کمیونٹی کیلئے نئے دور کا آغاز ہے کہ جب مستقبل قریب کی قیادت کو تیار کرنے اور ان کو درپیش مسائل کے بارے میں قبل از وقت تبادلہ خیالات کرنا انتہائی ضروری ہےپاکستان لیڈر شپ پروگرام درحقیقت کمیونٹی کے اندر لیڈرز کی اگلی نسل کی حوصلہ افزائی اور انہیں با اختیار بنا نے اور مزید طاقت فراہم کرنے کیلئے شعور و آگہی فراہم کرنا ہے۔
اس موقع پر مختلف پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل شخصیا ت ممبر برطانوی پارلیمنٹ بیرسٹر ایوب خان، وائس قونصل آف سفارتخانہ پاکستان برمنگھم بختاور میر، چیف آف سٹاف میئر آف ویسٹ مڈلینڈ لوسی کالڈیکوٹ، وقا راحمد ایم بی ای اسسٹنٹ ڈائریکٹر کمیونٹی سیفٹی برمنگھم سٹی کونسل اور دیگر نے شناخت اور کمیونٹی قیادت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
وائبرنٹ وائسز کے بانی عاطف علی بی ای ایم کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا آغاز 2023میں برمنگھم رپورٹ کے اجرا کے بعد انتہائی ضروری تھا تاکہ برمنگھم رپورٹ کی روشنی میں کمیونٹی کو درپیش مسائل اور تحفظات کے ازالہ کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جا سکیں جن کی پہلی سیڑھی یہ انتہائی اہم نشست ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستانی کمیونٹی کو کہنہ مشق مخلص اور متوازن سوچ کی حامل قیادت کی ضرورت ہے جو کمیونٹی کو درپیش سماجی اور معاشی مسائل کا حل تلا ش کرنے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کا ر لا سکیں۔
اس موقع پر شرکاء کی جانب سے مختلف سوالات بھی اٹھائے گئے جن کے مقررین نے تسلی بخش جوابات دیئے۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



