جہلم میں غیر قانونی نجی گائنی اسپتالوں اور کلینکس کی بھرمار، زچہ و بچہ کی زندگیاں خطرے میں

جہلم: ضلع بھر میں اتائی ڈاکٹرز کے غیر قانونی اسپتالوں اور کلینکس کی بھرمار، محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
پرائیویٹ گائنی اسپتالوں کی مانیٹرنگ نہ ہونے کے باعث سادہ لوح شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے جبکہ زچہ و بچہ کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ غیر مستند معالجین کی لاپروائی اور غیر موثر آپریشنز کے نتیجے میں حاملہ خواتین کی اموات کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو زچگی کے لیے نجی اسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں غیر موثر علاج اور غیر پیشہ ورانہ آپریشنز کے باعث متعدد خواتین جان کی بازی ہار چکی ہیں۔
بعض گائنی اسپتالوں اور کلینکس میں خواتین کو بے ہوش کرنے کے بعد مرد ڈاکٹرز آپریشن کرتے ہیں، جنہیں خفیہ طور پر آپریشن تھیٹر میں لایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے بعض نجی اسپتالوں میں 2 دروازے مخصوص کیے گئے ہیں تاکہ مرد اتائی ڈاکٹرز باآسانی اندر داخل ہو کر آپریشن کے بعد غائب ہو سکیں۔
اس کے علاوہ غیر مستند معالجین کی لاپروائی کا ایک اور پہلو استعمال شدہ اوزاروں کی نامناسب صفائی بھی ہے۔ زچگی کے دوران استعمال ہونے والے آلات کو جراثیم سے پاک کیے بغیر ایک سے دوسرے مریض پر استعمال کیا جاتا ہے، جو سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے۔
شہریوں کے مطابق ان غیر قانونی گائنی اسپتالوں میں علاج کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم ہے، جہاں آپریشنز کے اخراجات اور ادویات کی مد میں مریضوں کے لواحقین سے ہزاروں روپے بٹورے جا رہے ہیں۔
ضلع جہلم کے شہریوں نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی گائنی اسپتالوں کی سخت مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے تاکہ زچہ و بچہ کی زندگیاں محفوظ رہ سکیں اور عوام کو ڈیلوری کے نام پر کی جانے والی لوٹ مار سے نجات ملے۔



