جہلم میں حکومتی نرخوں پر اشیاء خوردونوش ملنا ناممکن، شہری ذہنی مریض بن گئے


جہلم: گلی گلی نگر نگر ایک ہی دہائی مار گئی مہنگائی مار گئی مہنگائی، حکومتی نرخوں پر اشیاء خوردونوش، سبزی فروٹ، گوشت اور دودھ دہی ملنا ناممکن ہو گیا۔ شہری ذہنی مریض بن رہے ہیں، حکومت کی جانب سے دیا گیا نرخ نامہ صرف لٹکانے اور دکھانے کے رہ گیا۔
تفصیلات کے مطابق شہرسمیت ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں سرکاری نرخوں پر اشیائے خوردونوش سے لے کر دودھ، دہی، گوشت، سبزی، فروٹ سمیت اشیاء ضروریہ ملنا ناممکن ہوچکی ہیں۔ دو درجن سے زائد پرائس مجسٹریٹس کلاس فور کے بھروسے پر جرمانے کرتے دکھائی دیتے ہیں جس سے پسند ناپسند کے مطابق جرمانے کیے جاتے ہیں جو مبینہ رشوت نقدی کی شکل یا اشیاء کی صورت انکو کھلی چھوٹ ہے۔
جہلم شہر میں بکرے کا گوشت کا سرکاری نرخ 1600 روپے کلو مقررہے جبکہ قصاب 2000 روپے سے 2200 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کررہے ہیں۔ گائے، بھینس، بچھڑے اور کٹے کےگوشت کا سرکاری ریٹ 800 روپے فی کلو مقررہے لیکن قصاب 1000 سے 1200 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کررہے ہیں۔
دہی سرکاری ریٹ 200 روپے کلو گرام مقرر ہے جبکہ دکاندار 220 روپے فی کلو فروخت کررہے ہیں۔ دودھ کا سرکاری ریٹ 180 روپے لیٹر ہے جبکہ دودھ فروش 200 سے 220 روپے لیٹر فروخت کررہے ہیں۔
برائلر مرغی گوشت کا ریٹ 530روپے فی کلو مقرر ہے جبکہ فروخت 560 روپے کلو ہو رہا ہے۔ سبزی و فروٹ کا مصنوعی ریٹ دیا جاتا ہے۔ روٹی کا وزن کم کرکے فروخت کی جارہی ہے، مبینہ طور پرچھوٹے دوکانداروں کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے، طاقتور منافع خوروں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
حکومتی اقدامات کو نقصان حکومتی مشینری سے ہی پہنچ رہا ہے جن افسران نے حکومتی احکامات پر عملدرآمد کروانا ہوتا ہے، اگر وہی مافیا کا ساتھ دینے لگیں تو عوام کو ریلیف کہاں سے ملے گا جس سے حکومت بدنام ہوتی ہے عوام کا حکومت سے اعتماد بھی اٹھ جاتا ہے۔
شہریوں نے وزیراعلی پنجاب سے نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے۔



