مذہبی جماعت کا احتجاج؛ جہلم میں تیسرے روز بھی نظامِ زندگی مفلوج، دونوں پل بند، خندقیں کھود دی گئیں

جہلم: مذہبی جماعت کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر تیسرے روز بھی جہلم شہر میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر رہے۔
دریائے جہلم کے دونوں پلوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی جبکہ ٹریفک بند ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ مسافروں، خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، متعدد شہری پیدل سفر کرنے پر مجبور ہو گئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق تحریک لبیک پاکستان (TLP) کے ممکنہ احتجاج کے باعث سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے دریائے جہلم کے دونوں پلوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر رکاوٹیں اور بیریئرز نصب کر دیے گئے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق گاڑیوں کی لمبی قطاروں اور راستے بند ہونے کے باعث شہری گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہے، جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر طارق عزیز سندھو نے اتوار کے روز دریائے جہلم کے دونوں پلوں کا دورہ کیا اور اسلام آباد کی جانب مذہبی مارچ کو روکنے کے لیے کیے گئے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔ انتظامیہ نے پلوں کے اطراف 30 فٹ گہری خندقیں کھود دی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی گاڑی یا پیدل مارچ کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن نے اس موقع پر کہا کہ “شہریوں کے تحفظ اور قومی املاک کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں”۔
پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر کئی کارکنوں کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات امن و امان برقرار رکھنے اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
مزید برآں، ڈپٹی کمشنر جہلم نے ضلع بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے جو 8 اکتوبر سے 15 اکتوبر تک مؤثر رہے گی۔ اس دوران ہر قسم کے اجتماع، احتجاج اور ریلیوں پر مکمل پابندی عائد ہے۔



