جہلم میں شہریوں کیلئے سوئی گیس کی اعلانیہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈ نگ عذاب بن گئی

جہلم میں شہریوں کیلئے سوئی گیس کی اعلانیہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈ نگ عذاب بن گئی۔ شہر اور ملحقہ علاقوں میں گیس بندش کے باعث گھر یلو خواتین گھروں میں صبح کا ناشتہ، دو پہر کا کھانا اور نہ ہی رات کا کھانا تیار کر پاتی ہیں۔
شہری بازاری مہنگے کھانے اور ناشتہ خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہیں، گھر یلو صارفین شدید مشکلات کاشکار ہیں جبکہ شہر کے بعض گلی محلوں میں پچھلے ایک ہفتہ سے گیس فراہم نہیں کی جارہی جس کی وجہ سے صارفین کے،چولہے ٹھنڈے، پڑے ہیں۔ مجبوراً صارفین ایل پی جی گیس ، لکڑی، کوئلہ اور دیگر ایندھن استعمال کرنے پر مجبورہیں۔
وفاقی حکومت اور محکمہ سوئی نادرن گیس کے حکام کی جانب سے صبح دو پہر اور شام کے اوقات میں صرف تین گھنٹے گیس مہیاکی جاتی ہے۔
متعدد گھر یلو صارفین کو وہ بھی دستیاب نہیں جس کی وجہ سے شہری متبال مہنگا ایندھن استعمال کرنے اور بازاری کھانے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ دفتری ملازمین ، محنت کشوں اور طلباء و طالبات کو بھوکے ہی گھروں سے روانہ ہونا پڑتا ہے۔ واپس آنے پر بھی گھروں کا کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ شکایات کےباوجود کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا۔
اس امر پرمتاثرہ صارفین نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر پٹرولیم اور جی ایم سوئی نادرن گیس پائپ لائن سے نوٹس لے کر گیس سپلائی مقررہ اوقات میں مہیا کر کے مشکلات کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔



