بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافے نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، سماجی حلقے

جہلم: حکمرانوں نے الیکشن میں عوام کو مہنگائی کم کرنے اور بجلی وسوئی گیس کے نرخوں میں ریلیف فراہم کرنے کے جو سبز باغ دکھائے اس کے برعکس ٹیکسوں کی بھر مار بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافے نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی، اشیاء خوردو نوش کے نرخ کئی گنا بڑھ گئے۔
ان خیالات کا اظہار شہر کی سماجی و مزدور تنظیموں کے عمائدین نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اور سوئی گیس کی قیمتوں میں آئے روز اضافے سے غریب محنت کش اور تنخواہ دارطبقہ کیلئے 2 وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے ہاتھوں عوام پس رہے ہیں کوئی پرسانِ حال نہیں ، حالیہ بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے سے اشیا ضرور یہ کی قیمتیں بھی بڑھادی گئی ہیں عام آدمی کی زندگی مہنگائی کی وجہ سے اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے فروری 2024 کے انتخابات کے دوران 300 بجلی کے یونٹ مفت دینے کا وعدہ کیا اور مہنگائی پر قابو پانے غریبوں کو ریلیف فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کئے لیکن تمام تر دعوے اور وعدے انتخابی نعروں تک محدود دکھائی دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بے روزگاری ، مہنگائی میں روز بروز مزید اضافہ ہو رہا ہے اب تو بجلی کے بل ادا کرنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں رہی، لوگ تین سو یونٹ فری کے انتظار میں ہیں کہ ہمارے حکمران کب اپنے وعدوں پر عملدرآمد کریں گے۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



