ضلع جہلم میں متعدد پرائیویٹ تعلیمی ادارے رجسٹریشن کے بغیر چلنے لگے

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں متعدد پرائیویٹ تعلیمی ادارے رجسٹریشن کے بغیر چل رہے ہیں جن کے مالکان کو محکمہ تعلیم کے بعض افسران و ملازمین کی مکمل آشیر باد حاصل ہے۔

ذرائع کے مطابق جہلم شہر سمیت ضلع بھر کی مختلف آبادیوں میں درجنوں ایسے پرائیویٹ سکولز قائم ہیں جنہیں رجسٹرڈ نہیں کروایا گیا، ان کی اکثریتی تعداد نرسری تا پنجم تک کلاسز پر مشتمل ہے۔ چند سکولز میں طلبہ و طالبات کو مڈل تک اور چند میں طالبات کو میٹرک تک تعلیم دی جارہی ہے۔

ان غیر رجسٹرڈ سکولز سے پانچویں تا آٹھویں اور میٹرک کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے داخلے مختلف رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کے تحت بھجوائے جاتے ہیں جن کے عوض متعلقہ رجسٹر ڈ سکول کے مالکان ان طلبہ و طالبات کے داخلے اپنے سکولز کے تحت بھیجوانے کے عوض فی طالب علم ہزاروں روپے وصول کرتے ہیں جس سے والدین کو دگنے امتحانی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

غیر رجسٹرڈ سکولز میں معیار تعلیم بھی مناسب نہیں اور طلبہ و طالبات کو فراہم کردہ سہولیات بھی نہایت نا کافی ہیں جس سے ان اداروں میں زیر تعلیم بچوں کا تعلیمی مستقبل خطرات سے دوچار رہتاہے اور ان سکولز سے پرائمری تعلیم مکمل کرنے والے بچوں کے پانچویں آٹھویں اور میٹرک کلاسز کے امتحانات میں پاس ہونے کی شرح بھی نہایت کم ہے۔

دیہی سرکاری سکولز غیر فعال ہونے کے باعث والدین کو ان غیر رجسٹرڈ مقامی سکولز سے بچوں کو تعلیم دلوانا پڑ رہی ہے۔ دوسری طرف محکمہ کے بعض افسران و ملازمین ان سکولز کے مالکان کو رجسٹریشن کی طرف راغب کرنے کی تلقین نہیں کرتے۔

سماجی حلقوں نے اعلی حکام سے پرائیویٹ سکولز کی رجسٹریشن اور معیار تعلیم کی جانچ کیلئے فرض شناس افسران و ملازمین پرمشتمل ہمیں تشکیل دینے کی اپیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button