برطانیہ و یورپ کے معاشرے میں بطور مسلمان بہترین کردار و عمل کا مظاہرہ کریں، ڈاکٹر غلام محمد گوہر

برمنگھم: برطانیہ و یورپ میں دعوت کا کام تحریر اور تقریر سے نہیں بلکہ اس عملی معاشرے میں اپنے عمل و کردار سے ایسا عکس پیش کریں کہ دیکھنے والا بول اٹھے یقینا اس کردار کا مالک مسلمان ہی ہو سکتا ہے۔ آپ حصول روزگار کے لیے برطانیہ آئے ہیں لیکن آپ صرف اپنے ملک کے نہیں بلکہ اسلام کے بھی سفیر ہیں۔ اپنے لین دین بول چال عمل و کردار میں ایسا عملی نمونہ پیش کریں دیکھنے والا متاثر ہو کر آپ کی جانب کھنچا چلا آئے گا۔
ان خیالات کا اظہار پیر ڈاکٹر غلام محمد گوہر نظیر گوہر مرکزی سجادہ نشین دربار عالیہ موہڑہ شریف نے ہارونیہ مسجد برمنگھم میں جشن میلاد مصطفی و محبت سلسلہ نسبت رسول کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کیا ۔اس موقع پر خلیفہ صوفی صفدر حسین، خلیفہ ملک ذوالقرنین علامہ محمد فرید ہارونی خلیفہ عبدالخالق راجہ جاوید اقبال علامہ سید ظفر اللہ شاہ، علامہ شفیق الرحمن چشتی، پیر عمران ابدالی حافظ فاروق چشتی، علامہ رشیدی، حافظ ابوبکر صدیق، محمد بہادر خان سمیت دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔
اس موقع پر دوبئی سے آئے ہوے نعت خواں گولڈ میڈلیسٹ محمد علی قادری، بلال نقشبندی محمد اویس، محمد عادل اور دیگر نے بارگاہ رسالت میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔
اس موقع پر حضر ت پیر ڈاکٹر گوہر نظیر گوہر کا کہنا تھا کہ اولیا کرام و مشائخ عظام نے نامساعد حالات میں برصغیر پاک و ہند میں دعوت تبلیغ کا کام جاری رکھا بابا جی قاسم موہڑوی رحمتہ سے سرکار موہڑوی بابا جی نظیر احمد اور میرے والد محترم حضرت پیر ہارون الرشید تک سب نے اپنے انداز میں کام کیا اورکوہ مری جیسے بیابان جنگل میں اللہ کا ذکر ایسا بلند کیا کہ منگل کا سماں پیدا ہو گیا آج کوہ مری موۂڑہ شریف ہر خاص و عام کی نگاہوں کا مرکز بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے والد محترم حضرت پیر ہارون الرشید اعلیٰ تعلیم کے بعد سی ایس ایس کر چکے تھے لیکن 1960میں انہیں مرکزی سجادہ نشین بنا دیا گیا ایسا ہی میری ساتھ ہوا اعلیٰ تعلیم کے بعد برطانیہ سے ایم بی بی ایس پاس کیا وطن واپس جانے کے بعد میڈیکل کے شعبہ کو چنا لیکن بزرگوں کی تربیت اور انکی روحانی نگاہ سے نظر کرم ہوا موہڑہ شریف میں سے میڈیکل خدمات کو اپنا مشن بنایا اور روحانیت سلسلہ نسبت رسولی سے ملی ۔
پیر ڈاکٹر گوہر نظیر گوہر کا مزید کہنا تھا علما کرام انگلش سکالرز اور مشائخ اپنے اپنے خطابات میں اپنی تربیت کرتے ہیں آپکو چائیے اس طرح کی محفلوں سے سیکھ کر جائیں اور ان پر عمل کریں۔ جس طرح ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی عمل و کردار سے تربیت یافتہ صحابہ کرام نے اپنے عمل و کردار سے دنیا بدل گئی۔ برطانیہ کی مصروف ترین وقت میں آپ بھی یہاں سے سیکھ کر عملی نمونہ پیش کریں۔
آخر میں پاکستان و برطانیہ کی سلامتی فلسطین و کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ اجتماعی ہدیہ درود و سلام سے محفل میں روحانی و وجدانی کیفیت طاری ہو گئی۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



