عمران خان کی رہائی کے لیے پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے 2 پٹیشنز کینیڈین پارلیمنٹ میں پیش

کنزرویٹو پارٹی کے وائس چیئرمین مائیکل کرام کی جانب سے کینیڈین پارلیمنٹ میں 2 درخواستیں پیش کی گئی ہیں، جن میں سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی صوابدیدی نظر بندی کو چیلنج کیا گیا تھا۔

پاکستانی کمیونٹی کے دستخطوں کے ساتھ کینیڈین پارلیمنٹ میں پیش کردہ 2 مختلف پٹیشنز میں کینیڈین حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ حکومتِ پاکستان سے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کا تقاضا کرے۔

دونوں درخواستیں کینیڈا کے علاقے ریجائنا ساسکاچوئن سے منتخب کینیڈین پارلیمنٹ کے ہاؤس آف کامنز کے رکن مائیکل کرام کی جانب سے پیش کی گئیں، ان کے مطابق پہلی پٹیشن میں اسلام آباد میں کینیڈین ہائی کمشنر کو جیل میں عمران خان سے ملنے اور ان کی صحت سے متعلق رپورٹ دینے کا تقاضا کیا گیا ہے۔

مائیکل کرام نے کینیڈین پارلیمنٹ کو بتایا کہ دونوں پٹیشنز سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے متعلق ہیں، جنہیں اقوام متحدہ کے مطابق ’صوابدیدی حراست‘ میں رکھا گیا ہے، جو انسانی حقوق کے عالمی منشور کی خلاف ورزی بھی ہے۔

اپنے حلقہ انتخاب سے پاکستانی کمیونٹی کی کینیڈین پارلیمنٹ میں نمائندگی کرتے ہوئے مائیکل کرام کا کہنا تھا کہ دوسری پٹیشن میں کینیڈین حکومت سے عمران خان کی رہائی کے لیے تمام سفارتی اقدامات بروئے کار لانے کا تقاضا کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button