جہلم تا للِہ دو رویہ سڑک کی تعمیر تاخیر اور ناقص انتظامات کے باعث شہریوں کے لیے عذاب بن گئی

جہلم تا للِہ دو رویہ سڑک کی تعمیر تاخیر اور ناقص انتظامات کے باعث شہریوں کے لیے عذاب بن گئی۔

تفصیلات کے مطابق موٹروے للِہ انٹرچینج سے جہلم کو ملانے والا 128 کلو میٹر طویل ڈیول کیرج وے جو سہولت کا باعث بننا تھا، اب سینکڑوں دیہاتوں کے مکینوں کے لیے وبالِ جان بن چکا ہے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق تعمیراتی کمپنیوں کی عدم دلچسپی، مشینری کی کمی اور ناقص نگرانی کے باعث سڑک جگہ جگہ سے گڑھوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ دن بھر سڑک پر مٹی اور دھول کے بادل چھائے رہتے ہیں، جس سے شہری سانس، آشوبِ چشم اور جلدی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ زیر تعمیر سڑک پر پانی کا چھڑکاؤ نہ ہونے سے صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔ سورج طلوع ہوتے ہی دھول اور مٹی کی شدت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ سڑک کے اردگرد کے مکینوں، دکانداروں اور راہگیروں کا سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے۔

عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ تعمیراتی کام کی رفتار تیز کروائی جائے اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی جائے کہ پانی کے باقاعدہ چھڑکاؤ سے شہریوں کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جائے تاکہ وہ بیماریوں اور اذیت سے محفوظ رہ سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button