سوہاوہ: ڈومیلی کے گاؤں بھاٹی میں بجلی کے پولز کی کمی، مکینوں کا احتجاج

سوہاوہ: ڈومیلی کے نواحی علاقہ ککرالہ کے گاؤں بھاٹی کے مکینوں نے بجلی کے ناکافی انتظامات اور خطرناک طور پر لٹکتی تاروں کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ گاؤں میں محض تین بجلی کے پولز نصب ہیں جبکہ 40 سے زائد گھروں کی تمام تر بجلی انہی پولز سے فراہم کی جارہی ہے۔ ہر پول سے دس سے پندرہ کنکشن لیے گئے ہیں اور گھروں تک کئی سو میٹر لمبی تاریں بچھائی گئی ہیں، جس سے نہ صرف وولٹیج میں کمی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے بلکہ لوگوں کی زندگیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔
مکینوں کا کہنا تھا کہ بجلی کی یہ لٹکتی تاریں گلیوں اور زمین پر پڑی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے آئے روز حادثات پیش آتے ہیں۔ متعدد مویشی بجلی کے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بارش اور آندھی کے موسم میں حالات مزید خطرناک ہو جاتے ہیں۔ مظاہرین نے مزید بتایا کہ کچھ گھروں میں آج تک بجلی نہیں پہنچی، جو رہائشیوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث ہے۔
اہل علاقہ نے شکوہ کیا کہ ہمارا گاؤں مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے اور ہم نے چوہدری فرخ الطاف کو ووٹ دیا، لیکن الیکشن کے بعد کسی حکومتی نمائندے نے ہمارے مسائل پر توجہ نہیں دی۔ بجلی کی یہ صورتحال نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔
گاؤں والوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، ڈپٹی کمشنر جہلم میثم عباس اور ایم این اے چوہدری فرخ الطاف سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گاؤں میں مزید بجلی کے پولز نصب کیے جائیں اور جہاں بجلی موجود نہیں وہاں فوری فراہمی یقینی بنائی جائے۔ مکینوں کا کہنا تھا کہ "آپ ہی ہماری آخری امید ہیں، بجلی ہماری بنیادی ضرورت ہے، اس مسئلے کا حل نکالا جائے”۔



