حکومت سکولوں کو پرائیویٹ کرکے غریب عوام کے بچوں سے میٹرک تک تعلیم کاحق نہ چھینے، چوہدری راشد محمود

جہلم: چوہدری راشد محمود نے کہا کہ حکومت وقت گورنمنٹ سکولوں کو پرائیویٹ کرکے غریب عوام کے بچوں سے میٹرک تک تعلیم کاحق نہ چھینے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ءکے آئین آرٹیکل 25A کے تحت 5تا16سال تک کے بچوں کی میٹرک تک مفت تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہے۔ طلباء وطالبات کی تعداد کے مطابق سکولوں اور اساتذہ کی تعداد میں اصافہ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

چوہدری راشد محمود ضلعی صدر پنجاب ٹیچر یونین جہلم کا کہنا ہے کہ آبادی اور غربت میں اضافے کی وجہ سے گورنمنٹ سکولوں میں طلباء وطالبات کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے اسکے لئے حکومت کو طلباء وطالبات کی تعداد کے مطابق سکولوں اور اساتذہ کرام کی تعداد بڑھانا چاہئے لیکن حکومت کی گورنمنٹ سیکٹر میں مسلسل عدم توجہی کی وجہ سے طلباء وطالبات کی تعداد کے مطابق سکولوں اور اساتذہ اکرام کی تعداد میں اضافے کی بجائے گورنمنٹ سکولوں اور اساتذہ کرام کی تعداد آئی ایم ایف اور غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے بتدریج کم ہورہی ہے جس وجہ سے غریب عوام کے طلباء وطالبات کی بہتر تعلیم و تربیت نہیں ہوپارہی۔

انہوں نے کہا کہ 2010ء تک پنجاب میں گورنمنٹ سکولوں کی تعداد 73 ہزار تھی اوراب2024میں تقریباً 48 ہزار 500رہ گئی ہے اور اساتذہ کرام تقریباًساڑھے چار لاکھ تھے اور اب تقریباً 3 لاکھ 43 ہزارہیں۔ گورنمنٹ سکولوں کی اکثریت میں مستقل ہیڈز نہیں انچارج ہیڈز سے کام چلایاجارہاہے۔

چوہدری راشد محمود نے کہا کہ پنجاب کے شہروں سے دوردراز دیہات کے کئی گورنمنٹ سکولوں میں چھ چھ اور آٹھ آٹھ جماعتوں کیلئے ایک یا دو اساتذہ کرام ہیں اور شہری سکولوں میں اساتذہ کرام کی ریٹائرمنٹ اور بھرتی نہ ہونے کی وجہ سے اور طلباء وطالبات کی گورنمنٹ سکولوں میں داخلے کی وجہ سے ایک سیکشن میں 70سے زائد طالب علم تعلیم حاصل کررہے ہیں جس وجہ سے طلباء وطالبات کی بہتر تعلیم و تربیت نہیں ہوپارہی۔

انہوں نے کہا کہ اس لئے وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر تعلیم پنجاب اور سیکرٹری تعلیم پنجاب کوالٹی ایجوکیشن اور طلباءوطالبات کی بہتر تعلیم و تربیت اور گورنمنٹ سکولوں میں ہر سال10فیصد اضافی داخلے کیلئے گورنمنٹ سکولوں کو پرائیویٹ کرنا مستقل حل نہیں پہلے جو گورنمنٹ سکول پیف کو دیئے consolidationکی انکا سروے کرلے آپ کو خود ہی معلوم ہوجائےگا کہ ان سکولوں کاکیاحال ہے اور جومکتب اسکول ختم کئے ۔

ضلعی صدر پنجاب ٹیچر یونین جہلم نے کہا کہ اس وجہ سے اس علاقے کی عوام کے طلباء وطالبات کیسے تعلیم سے دور ہوگئے اس لئے خدارا اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے انہیں پورا کریں نہ کہ گورنمنٹ سکولوں سے جان چھڑا کرغریب عوام کے بچوں کیلئے تعلیم کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کرکے جہالت عام کریں۔

اس موقع پر جنرل سیکرٹری منظور نظامی نے کہا کہ باقی آپ حکومت وقت بہتر جانتےہیں کہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی اللہ تعالیٰ نے حکومت کرنے کاموقع دیا۔ سابقہ غلطیوں سے سیکھتے ہوئے انکاازالہ کریں عوام سے انکا میٹرک تک تعلیم کاحق نہ چھنیں ورنہ تمھاری داستاں بھی نہ ہوگی۔ داستانوں میں طلباء وطالبات کی بہتر تعلیم و تربیت کیلئے اور مملکت پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کیلئے فوری اقدامات کرے۔

اس موقع پر چیئرمین چوہدری شبیر حسین نے کہا کہ پنجاب کے گونمنٹ سکولوں میں 1227 اپ گریڈ کئے گئے سکولوں میں نہم دہم کے طلباء وطالبات کی تعلیم وترتیب کیلئے ایس ایس ٹی آرٹس وسائنس اور سربراہان ادارہ جات بھرتی کئے جائیں۔کیونکہ ان سکولوں میں نہم دہم کے طلباء وطالبات پڑھ رہے ہیں لیکن SST اساتذہ کرام اور سکیل سترہ کے ہیڈز نہ ہونے کی وجہ سے طلباء وطالبات کی بہتر تعلیم و تربیت ممکن نہیں۔ اساتذہ کرام کی کمی کیوجہ سے طلباء و طالبات گورنمنٹ سکولوں کو خیرآباد کہہ رہے ہیں اور محکمہ تعلیم کے داخلے کے مطلوبہ ٹارگٹ پورے نہیں ہوتے۔

چوہدری افضال گجر میڈیا سیکرٹری نے کہا کہ فوری سکولوں میں بچیس تیس سالوں سے پروموشن کے منتظر اساتذہ کرام کو پروموٹ کرکے اپ گریڈ کئے گئے سکولوں میں بطور ہیڈ لگایا جائے اور SST کی سیٹوں پر تیس پینتیس سال سے بطور EST فرائض منصبی ادا کرنے والے اساتذہ کرام جو کئی سالوں سے پروموشن کے خواب سجائے بیٹھے ہیں کو بطور SST پروموشن دی جائے۔ خالی سیٹوں پر فوری مستقل بنیادوں پر بھرتی کی جائے تاکہ طلباء وطالبات کا مزید تعلیمی نقصان نہ ہو ۔ ایک لاکھ سے زائد اساتذہ کرام وہیڈز کی خالی سیٹوں پر فوری مستقل بنیادوں پر بھرتی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے گورنمنٹ سکولوں کی Consolidationفوری ختم کرے۔ مرد اور خواتین اساتذہ کرام میل اور فیمیل سکولوں میں بھیجے جائیں۔ پنجاب کے 2000تا2018تک محکمہ تعلیم میں خدمات سر انجام دیتے والے پوسٹ گریجویٹ اساتذہ کرام کو پے اینڈ سروس پروٹیکشن تاریخ تقرری سے مستقل کرکے جائز حق دیں۔

ہمیں فالو کریں


Google News

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button