پنڈدادنخان میں ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف ملازمین کا کفن پہن کر احتجاج

پنڈدادنخان میں بھی ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ سرکاری ہسپتالوں کے ملازمین نے حکومت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے اور سخت نعرے بازی کی۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب کے دیگر شہروں کی طرح ضلع جہلم اور تحصیل پنڈدادنخان میں بھی بی ایچ یو اور آر ایچ سی کی نجکاری کے خلاف سرکاری ملازمین سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔ اس دوران بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) کندوال کے ایک ملازم نے منفرد انداز میں احتجاج کرتے ہوئے کفن پہن کر سڑک پر لیٹ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، جس سے نہ صرف احتجاج میں شدت آئی بلکہ علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف سرکاری ملازمین کے روزگار کے لیے خطرہ ہے بلکہ عام عوام کے لیے بھی صحت کی سہولیات مہنگی اور ناقابلِ رسائی بنا دے گا۔ مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے حکومت سے نجکاری کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
بی ایچ یو کندوال کے ایک ملازم نے احتجاج کے دوران کفن پہن کر زمین پر لیٹنے کا فیصلہ کیا، جس نے احتجاج میں ایک نئی شدت پیدا کر دی۔ اس منظر کو دیکھ کر شہریوں کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہو گئی اور ملازمین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر غور نہ کیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا، اور ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔
احتجاج میں شریک ملازمین کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری سے علاج مزید مہنگا ہو جائے گا، اور غریب عوام بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، اور نجکاری کے بعد ان کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور عوام کو سستی اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔



