فضل الرحمٰن نے اگر لانگ مارچ کا اعلان کردیا تو حکومت آگے نہیں جاسکے گی، فواد چوہدری

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اگر لانگ مارچ کا اعلان کردیا تو حکومت آگے نہیں جا سکے گی۔

احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز شریف اگر مولانا فضل الرحمٰن کو مینیج نہ کر پائے تو حکومت نہیں چل پائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سب کیسز ختم ہوں گے تو 9 مئی واقعات پر کیسز شروع ہو جائیں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم بھی فارم 47 کے ایم این اے ہو سکتے تھے، ہمارا اپنا راستہ ہے، اسی کی تو سزا مل رہی ہے۔

فواد چوہدری کو خاندان اور بیٹیوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت

’ بی بی سی جہلم ‘ کے مطابق فوادچوہدری کو احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا کی عدالت پیش کیا گیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ فواد چوہدری کے خلاف انکوائری ابھی جاری ہے، اس دوران فواد چوہدری نے استدعا کی کہ اہل خانہ، بیٹیوں سے فون پر بات کی اجازت دی جائے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو خاندان اور بیٹیوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے فواد چوہدری کی استدعا منظور کرتے ہوئے فواد چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں 26 مارچ تک توسیع کردی گئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس 20 دسمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پنڈ دادنخان تا جہلم دو رویہ سڑک کی تعمیر، زمین کی خریداری میں خرد برد سے متعلق کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں نیب کی تحویل میں دے دیا تھا۔

16 دسمبر کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے جہلم تا للَہ (پنڈدادنخان) روڈ کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جبکہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے وارنٹ تعمیل کروانے کی اجازت دے دی تھی۔

20 دسمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پنڈدادنخان، جہلم دو رویہ سڑک کی تعمیر، زمین کی خریداری میں خرد برد سے متعلق کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں نیب کی تحویل میں دے دیا تھا۔

بعدازاں 30 دسمبر کو عدالت نے پنڈدادنخان، جہلم دو رویہ سڑک کی تعمیر، زمین کی خریداری میں خرد برد سے متعلق کیس میں سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چوہدری کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔

5 جنوری کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جہلم کے تعمیراتی منصوبوں میں خورد برد کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا، اسی طرح 9 اور 12 جنوری کو بھی 3، 3 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا تھا۔

7 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے فواد چوہدری سے جیل میں اہل خانہ کی ملاقات کے لیے جمعرات کا دن مختص کردیا تھا۔

واضح رہے کہ 9 مئی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کو قومی احتساب بیورو نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیرا ملٹری رینجرز کی مدد سے القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد ملک میں احتجاج کیا گیا اور اس دوران توڑ پھوڑ اور پرتشدد واقعات بھی پیش آئے۔

احتجاج کے بعد فواد چوہدری سمیت پی ٹی آئی کے کم از کم 13 سینئر رہنماؤں کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔

رہائی کے بعد 24 مئی کو فواد چوہدری نے پی ٹی آئی چھوڑ کر سابق وزیراعظم عمران خان سے اپنی راہیں جدا کرنے کا اعلان کردیا تھا، تاہم جون میں فواد چوہدری نے جہانگیر خان ترین کی قائم کردہ نئی سیاسی جماعت استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button