والدین نوجوان نسل کی اسلامی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں، پیر اسد الدین قادری

گریٹر مانچسٹر/ بولٹن: برطانیہ کے دورے پر آئے ہوئے آستانہ عالیہ منڈی شریف کوٹلی آزاد کشمیر کے سجادہ نشین پیر اسد محی الدین قادری نے کہا ہے کہ بزرگان دین نے اسلام کی شمع کو روشن رکھنے کیلئے اپنی زندگیوں کو وقف کر دیا اور مخلوق خدا کو صراط مستقیم پر چلانے کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہے۔ امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگیوں کو غلبہ اسلام کیلئے وقف کردے اور تاجدار مدینہ کے نقش قدم پر چلیں اسی میں ہماری بقا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ تعالی کی بارگاہ میں لے جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے برنلے میں حضرت پیر غوث اعظم عبدالقادر جیلانی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا حضرت غوث اعظم جیلانی نے اپنی ساری زندگی جس طرح رضائے الٰہی اور حضور اکرم ﷺ کی محبت اور محلوق خدا کی خدمت کیلئے وقف کی ہوئی تھی اسی طرح وقت کا تقاضا ہے کہ اولیاء اللہ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوا جائے کیونکہ ان کی تعلیمات امن و اخوت و محبت و احترام انسانیت کا درس دیتی ہیں۔

انہوں نے گیارہویں شریف کے سلسلہ میں نوجوان نسل اور ان کی تعلیمی ضرورتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گو بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے لیکن علماء و مشائخ کی رہنمائی سے بچے کی دینی و اسلامی تربیت میں مدد لی جا سکتی ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ ان کا سب سے اہم اور بڑا مسئلہ نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت پرتوجہ دینا ہے ہمیں اس بات کی اہمیت کو بھی محسوس کرنا چاہئے کہ نوجوان نسل اسلام سے بہرہ ور ہو کر موجودہ معاشرے کیلئے ایک عظیم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد برطانیہ اور یورپ میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کو یہ پیغام دینا تھا کہ جس طرح برصغیر پاک و ہند میں بزرگان دین نے محبت، رواداری اور انسان دوستی کے ساتھ اسلام کے چراغ روشن کئے تھے اسی طرح آج کے موجودہ دور میں ہم پر یہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ دیگر مذاہب کو ماننے والے یہ محسوس کریں کہ اسلام ایک امن پسند دین ہے اور اس کے پیروکار انسان دوستی کے لازوال رشتوں میں بندھے ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بے راہ روی اور سماجی برائیوں کی روک تھام کیلئے علمائے کرام بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، انہیں چاہئے کہ جدید تقاضوں کے مطابق نوجوان نسل کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اس موقع پر صوفی محمد زبیر نے کہا کہ اولیاء اللہ کی تعلیمات سے زوال پذیر اسلامی اقدار کو پھر سے زندہ کیا جا سکتا ہے اور مسلم معاشرے کی تشکیل نو کو شرمندۂ تعبیر کیا جا سکتا ہے لیکن یہ اس وقت ممکن ہوگا جب موجودہ دور کے علماء و مشائخ ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے دین اسلام کی ترویج و ترقی، نوجوان نسل کی دینی و دنیاوی اور روحانی تربیت کا اہتمام جب تک نہ کرسکیں۔

تقریب سے صوفی محمد انور نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا اور آخر میں اسلام کی سربلندی، امت مسلمہ کی کامیابیوں و کامرانیوں، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے خصوصی دعا پیر سید اسد محی الدین نے کی۔

تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button