جہلم میں نکاح رجسٹرار اور نکاح خوانوں نے بھاری فیسیں وصول کرنا شروع کردیں

جہلم شہر اور ضلع بھر کے نکاح رجسٹرار اور نکاح خوانوں نے اربن یونین کونسلوں میں خلاف ضابطہ بھاری فیسیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں، جس سے نو بیاہتا جوڑوں کے والدین کی مالی پریشانیوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔
نکاح خوانوں اور نکاح رجسٹرار کے ہاتھوں ستائے شہریوں نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شادی بیاہ کی تقریبات کے دوران سنت نبوی ﷺ کی روشنی میں حکومت کی مقرر کردہ فیس وصولی کی بجائے کئی سو فیصد اضافی فیسیں وصول کی جاتی ہیں، جو کہ دلہا دلہن کے والدین کے ساتھ سخت زیادتی کے مترادف ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ نکاح خوان اور نکاح رجسٹرار مہمانوں کے سامنے میزبانوں کی تذلیل کرنے لگتے ہیں، اور اصرار کر کے والدین کو ہزاروں روپے فیس کی مد میں دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان افراد کی جانب سے 15 سے 20 ہزار روپے تک مانگے جاتے ہیں اور کم از کم 10 ہزار یا اس سے زائد وصول کیے جاتے ہیں۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور سرکاری فیس سے زائد وصول کرنے والوں کے رجسٹر ضبط کریں تاکہ والدین اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کرنے میں کسی مالی پریشانی کا سامنا نہ کریں۔



