جہلم شہر اور ہاؤسنگ سوسائٹیز میں نو عمر بچیوں کو ملازمہ بنانے کا رجحان بڑھ گیا

76
جہلم شہر اور ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مالی طور پر مستحکم گھرانوں اور متعدد ورکنگ خواتین کی جانب سے نو عمر بچیوں کو گھریلو ملازمہ کے طور پر رکھنے کے رجحان میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
شہریوں کے مطابق شہر اور قرب و جوار کے علاقوں میں مالدار گھرانوں اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والی خواتین نے غریب گھرانوں کی نو عمر بچیوں کو معمولی اجرت پر گھریلو ملازمہ کے طور پر رکھنا شروع کر دیا ہے۔
ان بچیوں کو دن رات گھروں کے سرونٹ کوارٹرز میں رکھا جاتا ہے اور کام کے دوران ان سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جاتی۔ شہریوں نے بتایا کہ دن بھر کی مشقت کے بعد بھی بچیوں کو رات کے کسی بھی پہر کام کے لیے اٹھا لیا جاتا ہے، اور معمولی غلطی یا کوتاہی پر ان پر تشدد بھی کیا جاتا ہے۔
والدین کو ان بچیوں کے بدلے چند ہزار روپے پیشگی ادا کیے جاتے ہیں جبکہ ماہانہ تنخواہ زیادہ سے زیادہ 10 ہزار روپے مقرر کی جاتی ہے۔ شہریوں نے اس سنگین مسئلے پر ارباب اختیار سے فوری نوٹس لینے اور نو عمر بچیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔



