سوہاوہ: ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمہ میں نامزد اور عمر قید کی سزا پانے والا ملزم کو بری کر دیا

سوہاوہ: قتل کے مقدمہ میں نامزد اور عمر قید کی سزا پانے والے ملزم ہائیکورٹ نے شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ سوہاوہ میں درج قتل کے مقدمہ (مورخہ 7 مئی 2024) میں نامزد اور عمر قید کی سزا پانے والا ملزم خاور ظہیر ہائیکورٹ سے باعزت بری ہو گیا۔ عدالت نے ملزم پر عائد دو لاکھ روپے ہرجانہ بھی معاف کر دیا۔

ملزم کی جانب سے کیس کی موثر پیروی معروف قانون دان راجہ نوازش علی ایڈووکیٹ نے کی۔ سماعت کے دوران انہوں نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ استغاثہ شہادت کے بنیادی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا ہے، گواہوں کے بیانات میں واضح تضادات موجود ہیں جبکہ پیش کیے گئے شواہد ناکافی اور غیر معتبر ہیں۔

راجہ نوازش علی ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فوجداری قانون کے اصولوں کے مطابق شک کا فائدہ ملزم کو دیا جانا لازم ہے اور کسی بھی شہری کو محض الزامات کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ٹھوس، قابلِ اعتماد اور ناقابلِ تردید شواہد کے بغیر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے انہی بنیادوں پر ملزم خاور ظہیر کو بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ قانونی حلقوں نے اس فیصلے کو انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ عدالتی نظام میں شواہد کی اہمیت اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button