جہلم میں سحری کے اوقات سوئی گیس کا پریشر کم، گھریلو خواتین شدید مشکلات کا شکار

جہلم شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سحری کے اوقات میں سوئی گیس کا پریشر غیر معمولی طور پر کم ہونے کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
گھریلو خواتین کا کہنا ہے کہ گیس پریشر میں کمی کے باعث سحری کی تیاری بروقت ممکن نہیں رہتی، جس سے روزہ رکھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
متاثرہ صارفین کے مطابق رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سحری کے اوقات میں گیس کا پریشر اس قدر کم ہو جاتا ہے کہ کھانا تیار کرنے میں غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے۔ بعض علاقوں میں صورتحال اس حد تک سنگین ہے کہ گیس کی عدم دستیابی کے باعث سحری تیار ہی نہیں ہو پاتی، جس پر شہریوں کو مجبوراً ہوٹلوں سے مہنگے داموں کھانا خریدنا پڑتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ہر سال رمضان المبارک میں شدت اختیار کر لیتا ہے، مگر تاحال اس کا مستقل حل نہیں نکالا جا سکا۔ شہری حلقوں نے زور دیا ہے کہ رمضان المبارک کے تقدس کے پیش نظر گیس کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے تاکہ روزہ داروں کو بلاوجہ ذہنی اذیت اور اضافی اخراجات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
صارفین نے وزیراعظم پاکستان، چیئرمین سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سحری اور افطاری کے اوقات میں گیس پریشر کو معمول کے مطابق رکھا جائے تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی آ سکے۔



