پنڈدادنخان: جلالپور شریف کے جنگلات میں غیر قانونی شکار عروج پر، نایاب جانوروں کی بقا خطرے میں

پنڈدادنخان کے علاقے جلالپور شریف کے پہاڑی علاقوں میں نایاب جنگلی حیات کی زندگیاں شدید خطرے میں ہیں۔ مقامی جنگلات میں اڑیال، ہرن، تیتر اور خرگوش کا غیر قانونی شکار کھلے عام جاری ہے جس پر علاقہ مکینوں نے اربابِ اختیار سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے علاقہ جلالپور شریف کے جنگلات میں شکار کا سلسلہ عروج پر ہے۔ شکاری ہر جمعے اور اتوار کی رات جدید اسلحے کے ذریعے نایاب نسل کے جانوروں اور پرندوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی آوازیں رات بھر سنائی دیتی ہیں، جس سے نہ صرف جنگلی حیات بلکہ قریبی رہائشی علاقے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

شکاریوں کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ اڑیال اور ہرن کے گوشت کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ گوشت کی قیمت پانچ ہزار روپے فی کلو جبکہ ان جانوروں کی کھالیں 20 ہزار روپے میں بیچی جا رہی ہیں۔ یہ نایاب جنگلی حیات کی تجارتی شکار ایک منافع بخش غیر قانونی کاروبار بن چکا ہے، جس میں مبینہ طور پر محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

علاقہ مکینوں نے محکمہ وائلڈ لائف پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ان کی ملی بھگت کے بغیر اس درجے کی غیر قانونی سرگرمیاں ممکن نہیں۔ شکاری بلا خوف و خطر جنگلات میں آزادانہ شکار کرتے ہیں جبکہ متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نایاب جنگلی حیات کا غیر قانونی شکار نہ صرف ان کی نسلوں کے خاتمے کا سبب بن رہا ہے بلکہ اس سے پورے ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اڑیال، ہرن، اور تیتر جیسے جانوروں کا وجود اس علاقے کی حیاتیاتی تنوع کی علامت ہے، اور ان کے ختم ہونے سے یہ توازن بگڑ سکتا ہے۔

علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام، بشمول ڈپٹی کمشنر جہلم، محکمہ وائلڈ لائف کے اعلیٰ افسران اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی شکار پر مکمل پابندی لگائی جائے، شکار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ جنگلات میں گشت کے نظام کو فعال بنایا جائے تاکہ نایاب نسل کے جانوروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ محکمہ وائلڈ لائف کی کارکردگی کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور بدعنوان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جلالپور شریف کے پہاڑی علاقے نایاب جنگلی حیات کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ہونے چاہیں، لیکن موجودہ حالات میں یہ جانور مسلسل غیر قانونی شکار کی زد میں ہیں۔ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نایاب نسلیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہیں، جو ماحولیاتی اور حیاتیاتی نقصان کا باعث بنے گا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button