ضلع جہلم میں شجر کاری کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری وساری ہے، کامران کاظمی

جہلم: ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والی آلودگی سموگ موسمیاتی شدت اور آنے والی نسلوں کے لئے تحفظ ماحول کے عزم کے ساتھ شجر کاری کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری وساری ہے۔
ان خیالات کا اظہار ڈویژنل فاریسٹ آفیسر محمد کامران کاظمی نے شجر کاری مہم کے حوالے سے اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ درختوں کا کم ہونا اس وقت پاکستان کا سنگین مسئلہ ہے درختوں کو کاٹنا اپنی زندگی کو دھیرے دھیرے موت کی طرف لے جانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ درختوں کے کٹاؤ کی وجہ سے پاکستان میں اس وقت صرف 8 اعشاریہ 1فیصد درخت و جنگلات موجود ہیں جو کہ کم از کم 25 فیصد ہونے چاہئے ہم نے جو پودے لگائے ان کی آبیاری کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے ،زیادہ تر پودے ہماری عدم توجہی کے باعث پروان نہیں چڑھتے اور ضائع ہو جاتے ہیں۔
کامران کاظمی نے کہا کہ ہمیں طلباء و طالبات کو باقاعدہ شجر کاری کی تربیت دینا ہو گی، تب ہی ہماری آنے والی نسلیں سرسبز و شاداب اور صاف فضا میں سانس لے سکیں گی، پاکستان میں آلودگی کی سب سے بڑی وجہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ہے اور ہم اپنی زرعی زمینوں کو پیسوں کی لالچ میں درخت کاٹ کر کالونیاں تعمیر کر رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ نجی اداروں کو بھی شجر کاری کے لئے متحرک ہونا ہو گا جنگلات نہ ہونے کی وجہ سے بارشیں کم ہوتی ہیں ہمارے ملک سے خوشگوار موسم پاکستان سے کوسوں میل دوھ بھاگ گئے ہیں جس موسم کا ہم سامنا کر رہے ہیں یہ سوائے بیماریوں کے کچھ نہیں ،ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو ان موسمی آفات سے بچا کر صحت مند صاف ستھرے پاکستان سے نوازے۔



