نیشنل باکسسنگ چیمپئن پاکستان نژاد نوجوان باکسر عبداللہ احمد جرال فاتح، گولڈ میڈل حاصل کرلیا

برسلز: پاکستان و کشمیری نژاد نوجوان باکسر عبداللہ احمد جرال نے 17سال کی عمر میں نیشنل باکسنگ چیمئین شپ میں پہلے فلامش صوبہ کا فائنل جیت کر گولڈ میڈل حاصل کر لیا۔
اپنی شاندار فتح کا میڈل حاصل کر کے بیلجیم میں تاریخ رقم کر دی جبکہ فرینچ سائڈ کے چیمپئن مقابلہ میں بھی فائنل میں زبردست مقابلے میں اپنے مد مقابل کو ہرا کر بلجیم کا نیشنل چیمپئن بن گیا جو بلجیم کی تاریخ میں ایک بڑی کامیابی اور فتح ہے اس کامیابی سے جہاں کشمیر کا نام گونجا وہاں پاکستان و کشمیری کمیونٹی کا نامُ اور مقام بلند ہو گیا ۔
کشمیری نژاد عبداللہ احمد نے فائنل میں اپنے مدمقابل مسٹر Ventre Brandon کو شکست دی اس کی بلجیم میں عبداللہ سے ہارنے سے پہلے 23ناقابل شکست فائٹس تھیں۔ ان کا بیلج کمیونٹی کے لیے ایک ناقابل شکست باکسر کا امیج بنا چکا تھا باکسنگ میچ دیکھنے کے لیے دور دراز علاقوں سمیت دیگر ممالک سے بھی شائقین نے شرکت کی ۔
پہلے راؤنڈ میں عبداللہ احمد مدمقابل پر حاوی نظر آیا تو شائقین باکسنگ نے کشمیری نژاد کھلاڑی کے حق میں نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ عبداللہ احمد نے اپنی شاندار کامیابی پر اپنے بھائی اور باکسنگ میں بلجیم کے چیمپئن عمر شایان احمد کی تربیت اور رہنمائی اور والدین کے تعاون کو سراہا ۔
عبداللہ احمد نے کہا کہ میرے والد شبیر احمد جرال کی خواہش ہے کہ ہم بھائی دنیا میں باکسنگ کھیلیں اور چیمپئن بن کر کشمیر کا جھنڈا لہرائیں بالکل اسی طرح جس طرح آج کشمیر کے جھنڈے لہرائے گے تاکہ دنیا کو کشمیر میں بھارت کےمظالم کاعلم ہو اورکشمیری عوام کو آزادی ملے۔
عبداللہ احمد نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ یورپ اور پھر دنیا کے پلیٹ فارمُ پرباکسنگ مقابلوں میں حصہ لیں گے اور یورپین چیمپئن بننے کی کوشش کریں گے ۔عبداللہ احمد اور عمر شایان احمد کی شاندار کامیابی پر سفارت خانہ برسلز کے افسران نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور مبارک باد دی ہے ۔
پاکستان سپورٹس بورڈ اور چیئرمین یوتھ آفیئر رانا مشہود احمد خان نے انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باکسنگ کی دنیا میں نام پیدا کرنے پر میں دونوں بھائیوں کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کے والدین کی خدمات کو بھی سراہتا ہوں جنھوں نے محنت کر کے بچوں کو اس قابل بنایا جو آج پاکستان اور کشمیر کام نام اور رتبہ بلند کر رہے ہیں ۔



