جہلم میں سوئی گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ، خواتین بلبلا اٹھیں

جہلم شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں سوئی گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ، خواتین بلبلا اٹھیں۔ امور خانہ داری بری طرح متاثر، بلوں میں بے تحاشہ اضافہ،صارفین سراپا احتجاج ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر سمیت ملحقہ علاقوں میں سوئی گیس کی 18 ، 18 گھنٹے کی بد ترین اور طویل ترین لوڈ شیڈنگ نے گھریلو بجٹ تباہ کرکے رکھ دیا ہے ،موسم گرما کے باوجود سوئی گیس لوڈشیڈنگ کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے، خواتین کھانا پکانے سے قاصر ہیں۔
خواتین نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے باوجود گیس کے بل ہزاروں میں موصول ہو رہے ہیں۔ اب اس مہنگائی کے دور میں بازار سے کھانا لانا سفید پوش طبقے کی پہنچ سے دور ہے۔ ہم اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر ہزاروں روپے کے بل سرکاری خزانے میں جمع کروا رہے ہیں۔
خواتین نے کہا کہ حکومت نے ظالمانہ ٹیکسز لگا کر ہمارے بچوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین لیا ہے ۔ اس سارے ظلم کے بعد بھی سوئی گیس میسر نہیں، حکومت وقت کا ہر فعل عوام کیلئے زہر قاتل ثابت ہو رہا ہے۔ لوگوں کو مہنگائی بے روزگاری غربت سے زہنی مریض بنایا جا رہا ہے۔
شہریوں نے وزیراعظم پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان ،سوئی نادرن گیس پائپ لائن کے ارباب اختیار سے نوٹس لینے اور 24 گھنٹے سوئی گیس کی فراہمی کا مطالبہ کیاہے۔



