فلاحی ادارہ "اپنا گھر” میں مقیم لاوارث بزرگ عید کے روز بھی اپنوں کے انتظار میں آنکھیں بچھائے رہے

جہلم: عیدالاضحی جہاں خوشیوں اور میل ملاقات کا دن ہے، وہیں فلاحی ادارے "اپنا گھر” میں مقیم لاوارث اور بے سہارا بزرگ اس دن بھی اپنوں کی راہ تکتے رہے، مگر ان کی دعائیں، آس اور انتظار سب بے سود ثابت ہوا، کوئی گلے لگانے نہ آیا، کوئی حال پوچھنے نہ پہنچا۔
اولڈ ہوم "اپنا گھر” میں رہائش پذیر بزرگ افراد عید کے روز اپنے پیاروں کی یاد میں نم آنکھوں سے دروازے کی جانب دیکھتے رہے۔ کئی بزرگوں کا کہنا تھا کہ کبھی یہی عیدیں بچوں، بہو بیٹیوں اور نواسوں کے ساتھ ہنسی خوشی گزرتی تھیں، لیکن وقت اور حالات نے سب چھین لیا۔ اب زندگی کے آخری ایام تنہائی اور یادوں کے سہارے اس فلاحی ادارے میں گزر رہے ہیں۔
ادارے میں مقیم بزرگوں نے بتایا کہ اگرچہ اپنے چھوڑ گئے ہیں، لیکن "اپنا گھر” نے سہارا دیا ہے۔ یہاں ہمیں وقت پر کھانا، لباس، دوا اور عزت سب کچھ میسر ہے۔ ہم اب زیادہ وقت عبادت اور دعا میں گزارتے ہیں۔
ادارے کی سربراہ ڈاکٹر آسیہ ممتاز کو ان بزرگوں نے "ماں جیسا” درجہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہم سے بے پناہ محبت کرتی ہیں، ہر وقت ہمارے ساتھ ہوتی ہیں۔ ہم ان کی صحت و سلامتی کے لیے دعا گو ہیں۔
ان بزرگوں نے شہر کے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ اس ادارے کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ادارے کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور مزید بے سہارا افراد کو پناہ دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اپنا گھر” واقعی ان کے لیے ایک نئی امید ہے — ایک ایسا سایہ جہاں محرومیوں کے باوجود دل کو سکون میسر آتا ہے۔



