مسلمان امن کے داعی اور سکون سے رہنا پسند کرتے ہیں، پیر منور جماعتی

برمنگھم: برطانیہ میں مسلمان کمیونٹی پر بڑھتے ہوئے شدت پسندانہ حملوں کے پیش نظر جامع مسجد امیر ملت برمنگھم میں سجادہ نشین امیر ملت مہرالملت پیر سید منور حسین شاہ جماعتی کی زیرصدارت علمائے کرام، مشائخ اور مسلمان کمیونٹی کے سرگرم رہنماؤں کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں برطانیہ کے مختلف علاقوں میں مسلمان کمیونٹی کو درپیش شدت پسندانہ حملوں اور نفرت انگیز رویوں کا تفصیلاً جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے مریدین، یاران طریقت، متعلقین اور دوست احباب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ گزشتہ چند روز سے برطانیہ بھر میں شدت پسندوں کی جانب سے مختلف شہروں میں عوام الناس اور مساجد کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے مسلمان کمیونٹی شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ بات ان شدت پسندوں اور عالمی حقوق کے علمبرداروں سے کہنا چاہتے ہیں کہ ’’سکون اور چین سے جیؤ اور رہو اور دوسروں کو بھی آرام سے جینے کا حق دو‘‘۔ پوری کائنات اور زمین صرف اور صرف اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک کی ملکیت ہے اسی لئے اللہ رب العالمین نے کسی کو بھی زمین میں فساد پھیلانے اور ظلم و زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دی لہٰذا ہمیں بھی ایسے اقدامات سے باز رہنا چاہئے۔
سید منور حسین شاہ جماعتی نے کہا کہ ہم مسلمان امن کے داعی ہیں اسی لئے پوری دنیا میں امن چاہتے ہیں، ہم ہمیشہ امن و سکون سے رہنا پسند کرتے ہیں، ہم کسی ملک، مذہب یا فرقے کےخلاف نہیں بلکہ سب کو جینے کا حق ہے کے اصول پر زندگی گزارتے ہیں، ہمارا یہ حق صرف اور صرف دین حق کی سربلندی اور عظمت کی خاطر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں اور اسلام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اسلام اور اہل اسلام کے دفاع کا ہمیں حق حاصل ہے لہٰذا جو ہمارے ساتھ محبت، ہمدردی، رواداری اور بھائی چارے سے پیش آئےگا ہم بھی اس کے ساتھ کئی گنا زیادہ اور بڑھ چڑھ کر محبت، ہمدردی، رواداری اور بھائی چارے کےساتھ پیش آئیں گے لیکن جو ہمارے ساتھ ظلم و زیادتی سے پیش آئے گا تو ہم بھی برطانوی قانون و آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے جوابی کارروائی کرنے کے مجاز ہیں۔
اجلاس کے شرکاءسے بات چیت کرتے ہوئے پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے مزید کہا کہ میں اپنے مسلمان نوجوان بھائیوں، بیٹوں سے گزارش کروں گا کہ اسلام ہمیں امن و سکون کا درس دیتا ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ایسے نازک موقع پر دین اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہرگز ہرگز قانون کو ہاتھ میں نہ لیں اور برطانوی حکومت اور پولیس کو ان کی ذمہ داریاں پوری کرنے دیں جیسا کہ ان پرتشدد واقعات کےخلاف حکومت نے بلاتفریق انصاف کی یقین دہانی کرائی ہے۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



