بڑھتی مہنگائی اور کم اجرت نے مزدوروں کیلئے 2وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا، سید خلیل کاظمی

جہلم: عالمی یوم مزدور ہر سال یکم مئی کو محنت کشوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے بڑھتی مہنگائی اور کم اجرت نے مزدوروں کیلئے 2وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ،ہر آنے والی حکومت مہنگائی کا ذمہ دار سابق حکومت اور اس کی پا لیسیوں کو گردانتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار یوم مئی کے موقع پر جہلم پریس کلب کے باہر شہر کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت سید خلیل حسین کاظمی نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مزدور سارا دن کڑی دھوپ اور سخت سردی میں بیٹھ کر مزدوری ملنے کا انتظار کرتے ہیں جس دن مزدوری ملے اس دن کچھ کھا پی لیتے ہیں کچھ گھر والوں کے لئے لے جاتے ہیں وگرنہ بھوکے پیاسے ہی اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رمضان عید پر لنگر ، راشن ملتا تھا اب منہ زور مہنگائی کیوجہ سے وہ سہولت بھی تقریباً ختم ہوگئی ہے، مزدوروں کے نام پر دن تو منایا جاتا ہے مگر حکومت اور سیاسی تنظیمیں مزدوروں کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کرتیں، غربت سے تنگ طبقہ جرائم کی طرف راغب ہو تاجارہا ہے۔

سید خلیل حسین کاظمی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے مفادات مشترکہ ہیں الیکشن جیتنے کے بعد وہ اپنے منشور پر عمل نہیں کرتے، مزدوروں کے حق کی لڑائی لڑنے والی ٹریڈ یونینز اب تاریخ کا حصہ بنتی جارہی ہیں ، سرکاری اداروں میں ہر چیز ٹھیکے پردی جارہی ہے اور نجی اداروں میں ٹریڈ یونینز کا کوئی وجود نہیں ، تاریخ کا یہ اہم دن اب خود تاریخ بنتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آٹا ، گھی ، دالیں ، مکانوں کا کرایہ ، بجلی کے بل ، بچوں کی فیسیں، شادی بیاہ ، موت، فوت موجودہ اجرت میں کسی صورت گزر بسر نہیں ہو سکتی ، حکمران غریب طبقہ کے مسائل سے محض اس لئے ناواقف ہیں کہ انہوں نے بجلی فری ، پٹرول فری ،گیس فری، گاڑیاں فری، ملازمین فری ، بیرون ملک میں علاج فری یہاں تک افسر شاہی قائم ہے۔

سید خلیل حسین کاظمی نے حکمرانوں سے مطالبہ کیاہے کہ مزدوروں کی مشکلات کو مدنظررکھتے ہوئے عیاشیوں کو کم کیا جائے اور مزدوروں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے درجہ چہارم کے ملازمین کی کم از کم تنخواہ 50 ہزار روپے مقرر کی جائے تاکہ مہنگائی کے اس پرفتن دور میں غریب ملازمین زندگی کی سانسوں کے ساتھ روابط قائم رکھ سکیں ۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button