جہلم میں مضر صحت اور مہنگے گوشت کی فروخت جاری

جہلم شہر سمیت گردونواح میں مبینہ طور پر مضر صحت، لاغر اور مادہ جانوروں کا گوشت فروخت کیے جانے اور سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ گائے اور بکرے کے گوشت کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھنے سے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مرغی کے گوشت کے بعد اب گائے اور بکرے کے گوشت کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے گوشت کی خریداری انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔

شہریوں کے مطابق ضلع بھر کے مختلف علاقوں میں بعض قصاب مبینہ طور پر لاغر، مادہ اور غیر معیاری جانوروں کا گوشت فروخت کر رہے ہیں، جبکہ بعض مقامات پر بغیر سرکاری مہر کے گوشت فروخت کیے جانے کی بھی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متعدد دکاندار سرکاری نرخناموں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں، جس سے صارفین کو معاشی اور صحت کے حوالے سے دوہری مشکلات کا سامنا ہے۔

شہریوں نے الزام عائد کیا کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ انتظامی اداروں کی مبینہ عدم توجہی کے باعث ناجائز منافع خوری اور غیر معیاری گوشت کی فروخت پر مؤثر قابو نہیں پایا جا سکا، جس سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

سماجی، فلاحی اور عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم، لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر اور گردونواح میں قصابوں کی دکانوں کا ہنگامی معائنہ کیا جائے، غیر معیاری اور بغیر معائنے کے گوشت کی فروخت روکنے کے لیے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، جانوروں کے ذبح کو حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق یقینی بنایا جائے اور سرکاری نرخناموں پر سختی سے عملدرآمد کروا کر گراں فروشی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو معیاری گوشت مناسب قیمت پر دستیاب ہو سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button