زرعی ترقی اور پانی بحران سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات تیز کر دیے ہیں، چوہدری احسان

جہلم: پنجاب کے زرعی مستقبل کو سرسبز، مستحکم اور خودکفیل بنانے کے لیے محکمہ زراعت ضلع جہلم نے عملی اقدامات تیز کر دیے ہیں اور جدید حکمتِ عملی کے تحت زرعی شعبے کی بہتری پر کام جاری ہے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت چوہدری احسان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زرعی ترقی، پانی کے بڑھتے ہوئے بحران اور بنجر زمینوں کی آبادکاری جیسے بنیادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی پر تیزی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی جیسے سنگین مسئلے کے حل کے لیے ڈائریکٹر جنرل فیلڈ زاہد مشتاق میر کی قیادت میں ضلع جہلم سمیت پورے پنجاب میں مؤثر اور دیرپا اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ فیلڈ اسٹاف اور افسران کسانوں کے ساتھ مل کر جدید زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔
چوہدری احسان نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور جدید فلڈنگ سسٹم سمیت دیگر زرعی اصلاحات خوراک کی بلا تعطل فراہمی، قدرتی وسائل کے تحفظ اور دیہی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ زمینوں کی آبادکاری، آبی وسائل کے مؤثر استعمال، مٹی اور پانی کے تحفظ اور جدید زرعی مشینری کے فروغ کے ذریعے کاشتکاروں کو بااختیار بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ محکمہ زراعت کا مقصد صرف پیداوار میں اضافہ نہیں بلکہ ایک پائیدار اور مضبوط زرعی نظام کی تشکیل ہے، جو مستقبل میں بھی خوشحالی کی ضمانت بن سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے نہ صرف زرعی شعبہ مضبوط ہوگا بلکہ کسانوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا، جو ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔



