مریم نواز کا سُتھرا پنجاب مگر جہلم میں خواب؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا “سُتھرا پنجاب” ویژن بلاشبہ ایک مثبت اور عوام دوست تصور تھا، مگر جہلم اور دینہ میں اس ویژن کو جس بے دردی سے ناکام بنایا جا رہا ہے، وہ نہ صرف افسوسناک بلکہ قابلِ مذمت ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہاں “سُتھرا پنجاب” عملی طور پر “گندگی کی سلطنت” میں تبدیل ہو چکا ہے۔ شہری علاقوں کی سڑکیں، بازار اور گلیاں کچرے سے اٹی پڑی ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں تو صورتحال اور بھی سنگین ہے، جہاں صفائی کا کوئی منظم نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ گندے پانی کے جوہڑ، تعفن اور بیماریوں کے خطرات معمول بن چکے ہیں، مگر متعلقہ ادارے مکمل بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ صفائی کا عملہ اپنی اصل ذمہ داریوں سے غائب ہو کر صرف فوٹو سیشن تک محدود ہو گیا ہے۔ چند منٹ کے نمائشی اقدامات، کیمرے کے سامنے جھاڑو اور اس کے بعد مکمل غیبت، یہی اب صفائی مہم کا اصل چہرہ بن چکا ہے۔ پہلے یہ عملہ ہفتوں بعد دکھائی دیتا تھا، اب مہینوں گزر جاتے ہیں مگر ان کی موجودگی کہیں نظر نہیں آتی۔

یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ کیا وزیراعلیٰ کا ویژن یہی تھا؟ یا پھر کچھ نچلی سطح کے افسران اور عملہ دانستہ یا نااہلی کے باعث اس ویژن کو سبوتاژ کر رہے ہیں؟

مزید سنگین حقیقت یہ ہے کہ “سُتھرا پنجاب” کے ملازمین خود تنخواہوں سے محروم ہو کر احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک طرف وسائل کے دعوے، دوسری طرف بنیادی ادائیگیاں بھی نہیں، یہ تضاد اس پورے نظام کی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے۔ جب صفائی کرنے والے کو اس کا حق نہیں ملے گا تو نتائج بھی یہی ہوں گے جو آج نظر آ رہے ہیں۔

یہ صورتحال صرف غفلت نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کو ناکام بنانے کی ایک واضح مثال ہے۔ ایسے عناصر جو اس منصوبے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے یا اسے جان بوجھ کر تباہ کر رہے ہیں، انہیں نشانِ عبرت بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر سخت احتساب نہ کیا گیا تو نہ صرف یہ منصوبہ ناکام ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ خود اس صورتحال کا نوٹس لیں، ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کا سختی سے جائزہ لیا جائے اور صفائی کے نظام کو فوری طور پر درست کیا جائے۔ شہری اور دیہی دونوں سطحوں پر یکساں توجہ دی جائے، عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔

یہ کالم محض تنقید نہیں بلکہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ اگر “سُتھرا پنجاب” کو واقعی کامیاب بنانا ہے تو نعرے نہیں، عملی اقدامات اور سخت احتساب ضروری ہے۔ ورنہ یہ منصوبہ عوام کے لیے ایک تلخ مذاق اور انتظامیہ کی ناکامی کی داستان بن کر رہ جائے گا۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button