جہلم میں سوئی گیس کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، صارفین شدید پریشان

جہلم شہر اور اس کے قرب و جوار میں سوئی گیس کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث گھریلو صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ گیس کی کم پریشر اور طویل بندش نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔
صبح ناشتے کے اوقات ہوں، دوپہر کھانے کا وقت یا رات کے کھانے کے لمحات، ان تمام اوقات میں سوئی گیس کی بندش یا انتہائی کم پریشر نے گھریلو نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ گیس کی عدم دستیابی کے باعث گھروں میں کھانا پکانا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ خواتین، بزرگوں اور بچوں کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض علاقوں میں صورتحال اس قدر خراب ہے کہ چولہا جلانا بھی ممکن نہیں رہتا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں بھی گیس کی بندش نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا، اور اب ماہِ رمضان المبارک کا آغاز قریب ہے، مگر اس کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے گیس کی فراہمی کا کوئی واضح شیڈول یا پیشگی اطلاع جاری نہیں کی جا رہی۔ اس غیر یقینی صورتحال نے صارفین کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
عوامی حلقوں نے وزیر اعظم پاکستان اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے اور شہر بھر میں گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ شہریوں نے زور دیا ہے کہ ماہِ رمضان المبارک میں کم از کم گھریلو صارفین کو مستقل بنیادوں پر گیس فراہم کی جائے تاکہ عوام سکون کے ساتھ سحری اور افطاری کے انتظامات کر سکیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس سنگین مسئلے پر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہو گی۔



