جہلم میں مہنگائی کا جن بے قابو، پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

جہلم شہر اور گردونواح میں مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا ہے اور پھلوں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہو گئی ہیں۔

منافع خوروں نے من مانے نرخ مقرر کر کے وصولی شروع کر رکھی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ پھل خریدنا اب عام شہری کے لیے خواب بنتا جا رہا ہے۔

جہلم شہر کے مختلف بازاروں اور ریڑھی بانوں کی جانب سے سرکاری نرخ نامے کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ماہِ رمضان سے قبل ہی سیب، کیلا، امرود اور دیگر موسمی پھل اس قدر مہنگے ہو چکے ہیں کہ دیہاڑی دار طبقہ تو ایک طرف، متوسط طبقے کے لیے بھی پھل خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ مارکیٹ میں دکاندار سرکاری ریٹ لسٹ آویزاں کرنے کے بجائے خریدار کی جیب دیکھ کر قیمت بتاتے اور وصول کرتے ہیں۔

شہریوں نے مزید شکایت کی کہ قیمتیں زیادہ ہونے کے باوجود پھلوں کا معیار انتہائی ناقص ہے، جس سے صارفین کو دوہرا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث گراں فروشی روکنے کے لیے کوئی ٹھوس کارروائیاں نظر نہیں آ رہیں، جس سے منافع خوروں کے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں۔

مقامی سماجی حلقوں اور شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیں، پھلوں سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد کروائیں اور گراں فروشوں کے خلاف بلا امتیاز مؤثر کارروائیاں عمل میں لائی جائیں، تاکہ عام آدمی کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button