جہلم میں غیر قانونی اتائی کلینکس کی تعداد میں اضافہ، مریضوں کی زندگیوں کو خطرہ

جہلم: ضلع جہلم میں غیر قانونی اتائی ڈاکٹروں کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں نہ ہونے کے باعث اتائی کلینکس کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے، جس سے مریضوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
چند ماہ قبل محکمہ صحت کی جانب سے شہری و دیہی علاقوں میں اتائی کلینکس کے خلاف کارروائی کی گئی، جس میں متعدد کلینکس سیل کر دیے گئے اور بعض کلینکس کے مالکان خوف کے باعث خود سے دکانیں بند کر کے فرار ہو گئے تھے۔
مگر گزشتہ دو سے ڈیڑھ ماہ سے یہ کارروائیاں نامعلوم وجوہات کی بنا پر روک دی گئی ہیں، جس کے بعد ایک بار پھر سے اتائوں نے اپنے کلینکس کھول لیے اور دیہی علاقوں میں نام اور دکان تبدیل کر کے مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنا شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت ضلع بھر میں اتائی کلینکس کی تعداد سینکڑوں سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں بعض نے جعلی ڈاکٹرز کے نام کے بورڈز آویزاں کر رکھے ہیں جبکہ علاج معالجے کے لیے یہ ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے اور اتائی ان کے ناموں کی آڑ میں مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ یہ عمل محکمہ صحت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور سادہ لوح مریضوں کو بے وقوف بنانے کے مترادف ہے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ صحت کی ٹیموں کو اتائی کلینکس کے خلاف سخت اور ہنگامی کارروائی کرنے کی ہدایت کی جائے تاکہ سادہ لوح مریضوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔



