قانونِ وراثت میں مکمل توازن ہے، جائیداد کی تقسیم پر لڑائی ہماری بدنیتی کا نتیجہ ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ وطن عزیز میں قانونِ وراثت اسلامی ہے اس قانون میں اتنا توازن ہے کہ کسی کے ساتھ نا انصافی نا ممکن ہے۔لیکن آج جب ہم جائیداد کی تقسیم پر دست و گریباں ہوتے ہیں تو یہ ہمارے اندر کی بدنیتی ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نے جمعتہ المبارک کے روزخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم کسی کی حق تلفی کرتے ہیں،طلاق دینے کے بعد اپنے جملوں کا رد و بدل کر کے فتوی لیتے ہیں ایسا کرنا بہت بڑا جرم ہے۔اس طرح کرنا حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کے مترادف ہے۔یاد رکھیں ضروریات دین کا جاننا ہم سب پر فرض ہے کیونکہ ان مسائل کو جانیں گے توعمل کرپائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وضو،نماز اور بنیادی ارکان اسلام پر صحیح عمل کرنے کے لیے ان مسائل کا جاننا ضروری ہے۔اپنے گھروں میں جہاں ہم دنیاوی تعلیم کا اہتمام کرتے ہیں وہاں دینی مسائل سے آگاہی ہونا بھی بہت ضروری ہے۔جب تک وضو کا ایک ایک حصہ سمجھ کر نہ کیا جائے تو نما زکی ادائیگی ہی نہیں ہو گی۔اگر نماز میں ایسا عمل ہو جائے جو نماز کو باطل کر دے تو نماز پڑھتے ہوئے وہ نہ پڑھنے کے برابر ہوگی۔اس لیے روزانہ دس سے پندرہ منٹ گھر میں ایک پریڈ ایسا ہونا چاہیے جس میں دینی مسائل سے آگاہی ملے۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے مزید کہا کہ شریعت اسلامی میں ایسی بات جو دین اسلام میں نہیں ہے اس کو تبدیل کر کے مخلوق کو بتایا جائے یہ اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔یہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ ایسے مسائل میں انتہائی باریکی سے دیکھ کر راہنمائی فرمائیں۔کیونکہ عام آدمی صرف قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ کر عمل نہیں کر سکتا جب تک اس کے معنی و مفاہم کی راہنمائی اجماع اور اسوہ رسول ﷺ سے نہ ملے۔ اللہ کریم عمل کی توفیق عطا فرمائیں اور صحیح شعور عطا فرمائیں۔

آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button