پنجاب کی جیلوں میں اہلکاروں پر بغیر اجازت جیل سے باہر جانے پر پابندی، سیکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ

جہلم: پنجاب بھر کی جیلوں میں سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اب جیلوں میں تعینات اہلکاروں پر بغیر اجازت جیل کے احاطے سے باہر جانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اس سلسلے میں ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر جیل خانہ جات پنجاب کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق جہلم سمیت صوبے بھر کی جیلوں پر ہوگا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اکثر وارڈرز اور گارڈز اپنی ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد جیل سے باہر گھومنے چلے جاتے تھے، جو سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے نہایت خطرناک عمل ہے۔ ملیر جیل میں پیش آنے والے واقعے کے بعد جیلوں کی سیکیورٹی کو مؤثر اور مربوط بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

ڈی آئی جی جیل خانہ جات نے تمام جیل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت جاری کی ہے کہ جیل اہلکاروں کو ان کے ڈیوٹی روسٹر کے مطابق حاضری یقینی بنانے کا پابند کیا جائے۔ اگر کسی اہلکار کو ڈیوٹی کے بعد جیل سے باہر جانا ہو تو اس کے لیے باضابطہ سپرنٹنڈنٹ کی اجازت لینا لازم ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ جیل میں اہلکاروں کی موجودگی کو چیک کرنے کے لیے ویڈیو کال جیسے جدید طریقوں سے بھی نگرانی کی جائے گی۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ جو اہلکار اس حکم کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈی آئی جی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جیلوں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر سطح پر حاضری، نگرانی اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد جیل کے اندرونی و بیرونی نظام کو مؤثر بنانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو قبل از وقت روکنا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button