پاکستان پوسٹ کا نظام جدید دور کے تقاضوں کے برعکس زبوں حالی کا شکار، نجی کوریئر کمپنیوں پر انحصار بڑھ گیا

جہلم: پاکستان پوسٹ کا نظام جدید دور کے تقاضوں کے برعکس زبوں حالی کا شکار ہو چکا ہے۔ سست روی، ناقص پالیسیوں اور نکھٹو ملازمین کے باعث نہ صرف ڈاک سروس شدید متاثر ہوئی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور برق رفتار کوریئر سروسز کے دور میں بھی پاکستان پوسٹ کی ڈاک سروس تاخیر کا شکار ہے، جس کے باعث شہریوں نے پاکستان پوسٹ سے منہ موڑ کر نجی کورئیر کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنا شروع کر دی ہیں۔
عوام کا کہنا ہے کہ جہاں نجی کمپنیاں ایک دن میں سامان یا دستاویزات کی ترسیل یقینی بناتی ہیں، وہاں پاکستان پوسٹ کے ذریعے بھیجی گئی ڈاک کئی کئی دن بعد منزل تک پہنچتی ہے یا اکثر اوقات غائب ہو جاتی ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان پوسٹ جیسے قومی ادارے کو فعال بنانے کے بجائے انتظامیہ کی نااہلی اور ملازمین کی غیر ذمہ داری نے ادارے کو بدنام کر کے رکھ دیا ہے۔ غیر تربیت یافتہ عملہ، ٹیکنالوجی کا فقدان اور ناقص نگرانی اس بدحالی کی اہم وجوہات ہیں۔
شہریوں نے حکومت اور محکمہ ڈاک کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان پوسٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے، آن لائن ٹریکنگ، بروقت ترسیل، صارف دوست سروسز، اور فعال شکایتی نظام متعارف کرایا جائے تاکہ عوام دوبارہ اس قومی ادارے پر اعتماد کر سکیں۔
مزید کہا گیا کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان پوسٹ کا وجود صرف نام تک محدود ہو کر رہ جائے گا، جبکہ ملکی معیشت کو نقصان اور ہزاروں ملازمین کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔



