جہلم شہر میں پابندی کے باوجود بھاری گاڑیوں کی آمدورفت جاری، حادثات معمول بن گئے

جہلم شہر میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھاری گاڑیوں کے داخلے پر عائد کردہ پابندی ہوا میں اڑا دی گئی ہے۔
صبح پانچ بجے سے رات گیارہ بجے تک بھاری گاڑیوں کا شہر میں داخلہ بند کرنے کے احکامات اگرچہ جاری کیے جا چکے ہیں، تاہم ان پر عملدرآمد کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ شہر کی سڑکیں آئے روز ٹرکوں، ڈمپرز اور دیگر ہیوی ٹریفک سے بھری رہتی ہیں، اور حادثات معمول بن چکے ہیں۔
انتظامیہ نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بیریئر نصب کیے تھے تاکہ مقررہ اوقات میں بھاری گاڑیوں کا داخلہ روکا جا سکے، مگر ان بیریئرز کو بھاری گاڑیوں کے عملے نے یا تو نقصان پہنچایا یا انہیں نیچے پھینک دیا۔
اب یہ صورتحال ہے کہ ٹرک اور ڈمپرز دن کے وقت بھی اندرونِ شہر کی سڑکوں پر دندناتے نظر آتے ہیں، جن کی وجہ سے روزانہ کئی چھوٹے بڑے حادثات پیش آ رہے ہیں۔ متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کئی ایک دائمی معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔
ٹریفک پولیس کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ دن کے وقت یعنی رات گیارہ بجے تک اپنی موجودگی یقینی بنائے تاکہ ہیوی ٹریفک پر نظر رکھی جا سکے، مگر شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس عملہ مقررہ وقت سے پہلے ہی اپنی ڈیوٹی چھوڑ دیتا ہے، جس کی وجہ سے بھاری گاڑیاں بلا خوف و خطر شہر میں داخل ہوتی اور ٹریفک کے معمول کو درہم برہم کرتی ہیں۔
شہریوں نے اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، ڈی ایس پی ٹریفک، آر ٹی اے سیکرٹری اور موٹر وہیکل ایگزمینر سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے، بیریئرز کو دوبارہ نصب کر کے مضبوط کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں اور گاڑی مالکان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔
عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے کیونکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، جس سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔



