صدارتی ایوارڈ یافتہ عالمی شہرت یافتہ فوٹوگرافر محمد رفیق اویسی انتقال کر گئے

جہلم کی ممتاز شخصیت، عالمی شہرت یافتہ فوٹوگرافر اور صدارتی ایوارڈ کے حامل محمد رفیق اویسی رضائے الٰہی سے وفات پا گئے۔

محمد رفیق اویسی کی نمازِ جنازہ مرکزی جنازہ گاہ جہلم میں ادا کی گئی، جس میں شہر بھر سے فوٹوگرافرز، مووی میکرز، تاجر برادری، علمی و ادبی حلقوں، اور اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مرحوم رفیق اویسی کا شمار نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر معروف اور قابلِ احترام فوٹوگرافرز میں ہوتا تھا۔ انہوں نے فوٹوگرافی کے شعبے میں کئی دہائیوں تک اپنی خدمات انجام دیں اور اپنی تخلیقات کے ذریعے پاکستان کا مثبت اور خوبصورت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ان کے فن کو ملکی و غیر ملکی سطح پر بے حد سراہا گیا، جس کا اعتراف انہیں صدارتی ایوارڈ کی صورت میں بھی ملا۔

کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ایک باکمال خطاط بھی تھے۔ انہیں یہ روحانی سعادت حاصل رہی کہ انہوں نے متعدد بار مکمل قرآنِ مجید مختلف عربی رسم الخط میں اپنے دستِ مبارک سے تحریر کیا۔ ان کی فنی مہارت کے ساتھ ساتھ ان کی دینی وابستگی بھی ان کے کردار کا روشن پہلو تھی۔

ان کی وفات کو اہلِ جہلم اور فنی و روحانی حلقوں نے ایک عہد کا اختتام قرار دیا ہے۔ مختلف مکاتبِ فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے اور انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button