رورل ہیلتھ سنٹر دینہ کی نئی عمارت افتتاح سے قبل ہی خستہ حالی کا شکار، چیف انجینئر کا دورہ، عمارت کا جائزہ لیا

دینہ: رورل ہیلتھ سنٹر دینہ میں 4 کروڑ کی لاگت سے تیار ہونے والی نئی عمارت "مریم نواز ہیلتھ کلینک” ناقص مٹیریل کے استعمال کے باعث افتتاح سے قبل ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگی۔
مقامی کمیٹی نے اس سنگین معاملے پر وفاقی وزیر مملکت برائے ریلوے بلال اظہر کیانی سے ملاقات کی، جس کے بعد فوری نوٹس لیتے ہوئے چیف انجینئر سمیت دیگر افسران رورل ہیلتھ سنٹر دینہ پہنچ گئے اور عمارت کا جائزہ لیا۔
جہلم کی تحصیل دینہ کے رورل ہیلتھ سنٹر کی کمیٹی کے نمائندگان راجہ لیاقت علی اور سابق ایم پی اے مہر محمد فیاض نے وفاقی وزیر مملکت برائے ریلوے بلال اظہر کیانی سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران انہوں نے نئی بلڈنگ میں ناقص مٹیریل کے استعمال کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور بتایا کہ عمارت افتتاح سے قبل ہی خستہ حالی کا شکار ہو رہی ہے۔ اس پر بلال اظہر کیانی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے چیف انجینئر بلڈنگ لاہور سید ارشد رضا، ایس ای بلڈنگ پنڈی ڈویژن اور ایکسین بلڈنگ جہلم کو موقع پر پہنچنے کی ہدایت دی۔
وفاقی وزیر کے احکامات پر اعلیٰ افسران کے ہمراہ متعلقہ حکام رورل ہیلتھ سنٹر دینہ پہنچے، جہاں انہوں نے کمیٹی کے ہمراہ عمارت کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر سابق ایم پی اے مہر محمد فیاض، سی او ہیلتھ میاں مظہر حیات، ڈپٹی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ارشاد تونیو اور ہیلتھ سنٹر انچارج ڈاکٹر سلیمان بھی موجود تھے۔
کمیٹی کے ارکان جن میں وفاقی وزیر کے کوآرڈینیٹر راجہ علی، راجہ لیاقت علی، میاں سجاد، میاں عتیق اور راجہ ساجد نواز شامل تھے، نے اعلیٰ افسران کو عمارت کی خرابیوں سے آگاہ کیا۔ کمیٹی کے تحفظات پر چیف انجینئر نے تمام مسائل 20 اپریل تک حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر کمیٹی ارکان راجہ لیاقت علی اور میاں سجاد نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر عمارت کی ناقص تعمیر پر بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو سخت احتجاج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کو ضائع ہونے نہیں دیا جائے گا اور ہر سطح پر احتساب کا عمل یقینی بنایا جائے گا۔



